’کشمیر پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے ملک کی قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
بدھ کو پنجاب کے علاقے خیرپور ٹامیوالی میں رعد البرق نامی فوجی مشق کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت خطے میں امن کے لیے دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ہم دوسروں سے بھی اسی جذبے کی توقع رکھتے ہیں۔
فوجی مشق کی اختتامی تقریب میں وزیراعظم کے علاوہ بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ دیگر اعلیٰ فوجی اور سول قیادت نے شرکت کی۔
سرکاری ریڈیو کے مطابق فوجی مشق اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان دشمنوں کے عزائم اور کسی بھی مہم جوئی سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے موجودہ کشیدہ حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ جنوبی ایشیا کشیدگی کا مرکز رہا ہے اور جموں و کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے اور اس کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق سنجیدگی سے جامع انداز میں حل کرنا چاہیے۔
انھوں نے کشمیر میں جاری حالیہ شورش کے بارے میں کہا کہ جموں و کشمیر میں مقامی سطح کی حالیہ تحریک کو دبانے کے لیے وحشیانہ اقدامات نقصان دہ ہیں۔
انڈیا اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے درمیان متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ' کنٹرول لائن پر ہمارے بے گناہ شہریوں اور جوانوں کو شہید کرنا جارحیت کی ایک اورکارروائی ہے جو عالمی توجہ کا متقاضی ہے۔'
خیال رہے کہ چند دن پہلے لائن آف کنٹرول پر انڈیا کی فائرنگ سے پاکستان کے سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور اس پر پاکستان نے انڈیا کے ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کر شدید احتجاج کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی









