ماں کی فریاد رنگ لے آئی

جنوبی کشمیر کے اننت ضلع سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ ماجد خان فٹ بال کا بہترین کھلاڑی برانڈڈ کپڑوں، نئی گاڑیوں اور بائک ریسنگ کا شوقین تھا۔
سماجی خدمت میں بھی پیش پیش رہتا تھا۔ سوشل میڈیا پر سنہرے بالوں والا یہ لڑکا گزشتہ ہفتے ایک جھڑپ میں مقامی شدت پسند کی ہلاکت پر زاروقطار رورہا تھا، لیکن جنازے کے بعد گھر کی بجائے جنگل کی طرف چل دیا اور لشکر طیبہ کے ساتھ رابط کرلیا۔
یہ بھی پڑھیے
بعد میں سوشل میڈیا پر اسے بندوق لہراتے ہوئے دیکھا گیا۔ لیکن اس کی ماں کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہوگئی جس میں وہ اپنے بیٹے سے گھر لوٹنے کی گزارش کررہی تھی۔ پولیس حکام نے تصدیق کر لی ہے کہ جمعہ کی صبح جنوبی کشمیر میں ماجد نے فوج کے سامنے ہتھیار سمیت سرینڈر کردیا۔
وزیراعلی محبوبہ مفتی نے اس پر ٹویٹ کیا کہ " بالآخر ماں کی فریاد رنگ لائی۔ انہوں نے مزید ٹویٹس میں لکھا کہ ’میں تشدد کے راستے پر بھٹکے نوجوانوں کا تذبذب سمجھتی ہوں، لیکن ان میں اکثر بے معنی تشدد کو ترک کرکے گھر لوٹتے ہیں۔‘

اپوزیشن رہنما عمرعبداللہ نے وزیراعلٰی کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’اگر یہ سچ ہے تو امید ہے کہ ماجد سماجی زندگی میں لوٹ آئے گا اور اسے ہراساں نہیں کیا جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران بعض خبررساں ایجنسیوں نے لشکر طیبہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں لشکر کا کہنا ہے کہ ماجد نے سرینڈر نہیں کیا بلکہ اسے والدین کی فریاد کے بعد گھر لوٹنے کی اجازت دی گئی۔
واضح رہے گزشتہ برس جولائی میں مسلح کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہمہ گیر عوامی مظاہروں کے درمیان سو سے زیادہ عسکریت پسندوں کو تصادم آرائیوں کے دوران ہلاک کیا گیا۔ بھارتی فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی حالیہ بیان میں بتایا کہ کشمیر کی سرزمین پر سبھی عسکریت پسندوں کو ختم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں فوج کا آپریشن آل آوٹ بھی جاری ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ نہایت قلیل عرصے میں کسی نوجوان نے واپسی کی راہ لی ہو۔
وزیراعلی کے قریبی ذرایع نے بی بی سی کو بتایا کہ محبوبہ مفتی نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ’مسلح تشدد کے راستے پر بھٹکنے والے نوجوانوں کو سرینڈر پر ہی آمادہ کیا جائے۔‘
ذرایع کا کہنا ہے کہ پولیس کو جو معاوضہ عسکریت پسند کی ہلاکت کے لئے دیا جاتا ہے ، اسے دو گنا بڑھا دیا گیا مگر شرط یہ ہے کہ عسکریت پسند کو زندہ گرفتار کیا جائے یا اسے سرینڈر پر آمادہ کیا جائے۔
جنوبی کشمیر میں ماجد خان کے بعض رشتہ داروں نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’ماجد بہت جذباتی ہے۔ لیکن وہ زندگی سے بہت کچھ چاہتا ہے۔ ہر پل نئے کپڑے پہننے ، گاڑیاں بدلنے اور بالوں کا ہر ہفتے سٹائل بدلنے کی وجہ سے وہ یہاں کے نوجوانوں کا آئیکن بن گیا ہے۔‘









