لنگر جہاں ذات پات،رنگ و نسل کی قید نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سلمیٰ حسین
- عہدہ, ماہر طباخ، دہلی
لنگر کا اصل مفہوم وہ دسترخوان ہے جہاں ہر فرد بلا کسی تفریق مذہب و ملت نسل و نژاد کھانا کھا سکتا ہے۔ یہ مطبخِ عام ہے جہاں نہ ذات پات کی قید ہے نہ رنگ و نسل کا بھید بھاؤ۔
یہ زمانۂ قدیم سے کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے اور مسلم صوفیوں کی درگاہوں پر عرس یا کسی خاص موقعے پر اس کا اہتمام آج بھی ہوتا ہے۔
لیکن کہا جاتا ہے کہ سکھ مذہب میں لنگر کی بنیاد گرو نانک نے 1481 میں رکھی تھی جس کا مقصد آپس کے میل جول کو فروغ دینا، مذہبی تفریق کو مٹانا اور ایک دوسرے کا احترام تھا۔ یعنی:
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
یہ بھی پڑھیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گرو نانک کا شروع کردہ یہ لنگر 'گرو لنگر' کے نام سے مشہور ہوا اور آج سکھ مذہب کے ہر گردوارے میں لنگر ایک لازمی جز ہے اور اس کار خیر میں مرد کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ خواتین باورچی خانہ سنبھالتی ہیں اور مرد لنگر کا انتظام کرتے ہیں اور بچے کھانا پیش کرنے کا کام سنبھال لیتے ہیں۔
لنگر کا کھانا سادہ اور گھریلو انداز کا ہوتا ہے۔ دال دسترخوان کا لازمی حصہ ہے۔ کہتے ہیں کہ ماش کی دال کا مزہ صرف لنگر میں ہی آتا ہے۔
لنگر کا کھانا سبزیوں، دال، چاول، پنیر اور حلوے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہزار ہا لوگ گرو کے لنگر کا لطف اٹھاتے ہیں۔ حکایت ہے کہ اکبر بادشہ گرو امر داس سے ملنے گئے۔ سکھ روایات کے مطابق گرو کے لنگر میں شامل ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے ہزار ہا لوگوں کے ساتھ کھانا کھایا اور سکھ مذہب کے اس انداز سے اس قدر متاثر ہوئے کہ گرو امر داس کو کئی گاؤں کی جاگیر عطا فرمائی۔ لیکن گرو امرداس نے بادشاہ کی عنایت کو قبول کرنے سے انکار کیا کہ انسانیت کی خدمت ان کا فرض ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا۔ بادشاہ نے یہ ہدیہ ان کی دختر اور ازدواج کا تحفہ کہہ کر نذر کیا اور کہا جاتا ہے کہ اسی سرزمین پر آج شہر امرتسر آباد ہے۔
یہ بھی پڑھیں
لنگر کے انتظام میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن سکھوں کے دسویں گرو گروگوبند سنگھ مسافر کا بھیس بدل کر آنندپور کے لنگر کا جائزہ لینے کے لیے نکل پڑے۔ راستے میں کئی گرودواروں کا دورہ کیا جہاں لنگر تیار نہیں تھا اور انھیں یہ کہا گیا کہ کسی دوسرے روز آنا۔
لیکن جب آنندپور پہنچے تو دیکھا کہ بھائی نندلال کے ہاں بھی لنگر تیار نہیں تھا لیکن نندلال نے ان کی بڑی عزت کی محبت سے بٹھایا اور جو کچھ میسر تھا وہ پیش کیا۔ گرو گوبند سنگھ نے دوسرے گرودواروں کو بھی اسی طرح کے سلوک کی تاکید کی اور کہا کہ غریب کو کھانا کھلانا گرو کو کھانا کھلانے کے برابر ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دیگ تیغ فتح یعنی خیر خیرات اور ضیافت سے دنیا فتح کرنا۔ ایک خوشحال سکھ گرو کے لنگر میں دیے جانے والے مالی تعاون کو اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہے۔
امرتسر کے گرودوارے میں روزانہ ہزاروں افراد کھانا کھاتے ہیں اور آج دنیا کے ہر گرودوارے میں لنگر کا اہتمام ہوتا ہے۔
رفتہ رفتہ لنگر نہ صرف کھانے کا ذریعہ بلکہ اجتماعی اصلاح کا حصہ بن گیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جب سکھ پناہ گزین سرحد پار سے اس ملک میں آئے تو انھوں نے سانجھا چولھے کی بنیاد رکھی جہاں سکھ برادری مل جل کر بیٹھتی اور دن بھر کی روداد ایک دوسرے کو سناتی تھی اور ساتھ ہی کھانا کھاتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لنگر کے کچھ اصول ہیں جن میں کھانا تازہ، گرم اور صاف ستھرا ہو۔ خواتین کھانا بناتے ہوئے گربانی کا ذکر کرتی ہیں۔ لنگر تیار ہوجانے پر کھانے کا چھوٹا سا حصہ گرو گرنتھ صاحب کے آگے رکھ دیا جاتا ہے۔ دعا کے بعد یہ کھانا برکت کے لیے سارے دیگوں میں ملا دیا جاتا ہے۔
٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔








