مانڈو اور عشق و محبت کی داستان

،تصویر کا ذریعہSalma Hussain
- مصنف, سلمیٰ حسین
- عہدہ, ماہر طباخ، دہلی
وسطی ہند میں وندھیاچل کے پہاڑی سلسلے میں چھپا مالوہ ریاست کا شہر مانڈو اگر ایک طرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے تو دوسری طرف دریائے نربدا کی لہروں میں پنہاں عشق و محبت کی داستان دہراتا ہے۔
یہ شہر جغرافیائی لحاظ سے ہندوستان کا دل ہے جس کی دھڑکن کبھی ہزاروں کا دل موہ لیا کرتی تھی لیکن اب وہاں ویرانی میں ایستادہ عمارتیں اس کی ماضی کی شان و شوکت کی خاموش گواہ ہیں۔
سلاطین دہلی نے پندروھویں صدی کے آغاز میں دلاور خاں غوری کو مالوہ کا گورنر مقرر کیا تھا لیکن دلاور خان نے جلد ہی اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا اور مانڈو کو اپنا دارالحکومت قرار دے کر اسے 'شادی آباد' کا نام دیا۔
معمار اور فنکار دہلی سے بلوائے گئے اور مانڈو کی چھوٹی سی ریاست خوبصورت عمارتوں سے سجنے لگی۔ وہاں کی ابتدائی دور کی عمارتوں میں تغلق اور خلجی فن تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔
خلجی حمکرانوں نے مانڈو کو ایک مستحکم ریاست کی شکل دی اور ایک خوشگوار اور پرسکون ماحول دیا۔ غیاث الدین خلجی نے مانڈو کو عیش و عشرت کا گہوراہ بنا دیا جہاں رقص و سرود کی محفلیں، شاہی ضیافتوں کا دور دورہ، دلفریب حسیناؤں کی انجمن سجتی رہتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
غیاث الدین کے دور حکومت میں نعمت نامہ جیسی کتاب لکھی گئی جو نہ صرف طرح طرح کے کھانوں پر مشتمل تھی بلکہ صحت مندی کے کئی راز اس کے اوراق میں پنہا تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غیاث الدین بذات خود شاہی باورچی خانے میں تیار ہونے والے پکوانوں پر نظر رکھتے تھے۔ نعمت نامہ اس دور کی پہلی کتاب ہے جس میں کھانا پکانے کی تصاویر شامل ہیں۔
حرم کی بے شمار حسیناؤں کی دلبستگی کےلیے جہاز نما شاندار محل تعمیر کروایا جو آج بھی تاریخ میں اپنی مثال آپ اور سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔ انھوں نے حرم میں مدرسے کی بنیاد رکھی اور تعلیمی معیار کو بلند کرنےکی کوشش کی۔ غیاث الدین کے حرم کی حسینائیں زندگي کے ہر شعبے میں مہارت رکھتی تھیں۔
16 ویں صدی کے نصف آخر میں مانڈو کو مغلوں کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہاں کا خوبصورت نظارہ، چنچل ہوائيں، لہروں کے گیت، پرندوں کی چہچہاہٹ نے مغل حکمرانوں کو مانڈو کا گرویدہ بنا دیا۔ اکبر نے اس کوہستانی ریاست کا چار بار دورہ کیا۔
ہمایوں نے خانہ جنگیوں سے دور مانڈو کے خوشگوار ماحول میں مختصر قیام کیا۔ جہانگیر خود عیش پسند بادشاہ کہلاتا ہے وہ اپنی ملکہ نورجہاں کے ساتھ اکثر مانڈو میں اچھا وقت گزارتے تھے اور اس کا تذکرہ ان کی خودنوشت جہانگیر نامہ میں موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 1617 میں جب جہانگیر نے پہلی مرتبہ مانڈو کا قصد کیا تو عبدالکرمی معمار کے سپرد مانڈو کی عمارتوں کی ترمیم کی گئی تاکہ بادشاہ اور ملکہ کی آمد سے قبل جہازمحل شاہی مہمانوں کے لیے تیار ہو جائے۔ عبدالکریم نے جہاز محل کی تجدید کاری میں پانچ لاکھ روپے خرچ کیے اور محل کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیے۔ بادشاہ نے خوش ہو کر انھیں معمور خان کا خطاب دیا۔
مانڈو نہ صرف خوبصورت مناظر اور عمارتوں کا شہر ہے بلکہ عشق و محبت کا ہمراز بھی ہے۔ اس کی مٹی میں باز بہادر اور رانی روپ متی کے عشق کی داستان نہفتہ ہے۔
باز بہادر مانڈو کا آخری حکمراں تھا جبکہ روپ متی ایک چرواہن تھی اور مانڈو کی آزاد فضامیں بکریاں چرایا کرتی تھی۔ خدا نے روپ متی کو بلا کا حسن اور سریلی آواز دی تھی۔
غیاث الند نے سر راہ روپ متی کی ایک جھلک دیکھی اور دیوانہ وار فدا ہو گئے۔ عشق کے دیوتا نے انھیں ایسا گھائل کیا کہ انھوں نے روپ متی کو اپنی ملکہ بنا لیا۔ زندگی روپ متی کے ساتھ اور حسین ہو گئی۔ لیکن ادھم خان کے حملے نے غیاث الدین کی زندگی کو بکھیر دیا۔
باز بہادر کو ادھم خان کے ہاتھوں شکست ہوئی اور وہ فرار ہو گیا اور رانی روپ متی نے اپنے ناموس کی حفاظت اور باز بہادر کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیا۔
٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔







