فوج کی تجدید چین میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چینی صدر شی جن پنگ کے پہلے پانچ سالہ دور میں جتنے قابل ذکر اقدامات کیے گئے ان میں فوجی اصلاحات سب سے زیادہ اہم ہیں اور یہ اصلاحات مستقبل میں چینی سیاست کے رخ کے بارے میں بہت کچھ واضح کرتی ہیں۔
شی جن پنگ کو فوج میں جرات مندانہ اور وسیع اصلاحات لانے میں کوئی عار نہیں رہا اور ان کے نتیجے میں چینی فوج یعنی پیپلز لیبریشن آرمی (پی ایل اے) میں خاصی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ نگار چینگ لی کے مطابق فوج کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات ایسے جرنیلوں سے جن کی بدعنوانیاں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ وہ فوجی عہدے بھی بیچنے لگے تھے، پاک کرنے کے علاوہ شی جن پنگ نے یکسوئی کے ساتھ چینی فوج کو منظم کرنے اور اسے جدید بنانے کے لیے کام کیا۔
ان کی کوششیں پی ایل اے کے چار نام نہاد 'جنرل ڈپارٹمنٹس'کو حاشیے پر لانے پر مرتکز تھیں جو کہ حکومت کے مجازی بازو کے طور پر کام کرتے رہے تھے اور عوامی قیادت والے مرکزی فوجی کمیشن (سی ایم سی) کے اختیارات کو کمزور کر رہے تھے۔
انھوں نے چینی فوج کے آپریشنز کے طریقہ کار کو فوج پر مرتکز روسی طرز کے نظام سے بقول تجزیہ کاروں کے 'مغربی طرز کی جوائنٹ کمانڈ' میں تبدیل کیا اور تیزی کے ساتھ 'نوجوان افسران' کو اعلیٰ عہدوں پر ترقی دی۔
ان اصلاحات کے اثرات کا مکمل طور پر جائزہ لینے میں کئی سال لگ جائيں گے جبکہ مزید تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
آنے والی اس کانگریس میں جہاں سے چين کے مستقبل کے رہنماؤں کی رونمائی ہوگی، شرکت کرنے والے فوج اور پولیس کے مندوبین کی فہرست سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ میں پہلی بار اتنی وسیع تعداد میں سینیئر افسر اس میں شریک ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کانگریس میں شریک 300 فوجی مندوبین میں سے 90 فیصد مندوبین پہلی بار اس میں شریک ہوں گے جو کہ ایک غیرمعمولی شرح ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
18 ویں سینٹرل کمیٹی کے اراکین میں سے صرف 17 فیصد یعنی 41 میں سے صرف سات فوجی نمائندے ہی اپنی نشست برقرار رکھ سکیں گے۔ یہ جدید چین کی تاریخ میں فوجی قیادت میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔
نئی اعلیٰ فوجی قیادت میں ممکنہ طور پر شی جن پنگ کے پرانے دوست جنرل ژانگ یوکسیا، جنرل لی زاؤ چینگ اور ایڈمرل میاؤ ہوا کے ساتھ چین کی برّی فوج، بحریہ، فضائیہ اور سٹریٹیجک سپورٹ فورس کے ترقی پانے والے نئے کمانڈرز ہوں گے۔
شی جن پنگ سے وفاداری کے علاوہ یہ جرنیل اپنی طویل فوجی سروس، جنگی تجربے اور جدید جنگ کے بارے میں پیشہ ورانہ علم کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔
جس پیمانے پر فوج میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ قیادت میں بھی وسیع تبدیلیاں آئيں گی اور بطور خاص شی جن پنگ کی طاقت میں مزید استحکام کا امکان ہے۔
فوج پر مضبوط کنٹرول کے ساتھ شی جن پنگ نے پارٹی کی 19 ویں کانگریس میں بڑے پیمانے پر پارٹی قیادت میں تبدیلی کے لیے سٹیج تیار کر دیا ہے۔
18 ویں سینٹرل کمیٹی کے 376 اراکین میں سے 38 (تقریباً 10 فیصد) اراکین کو بدعنوانی اور دوسرے جرائم کے الزامات کے تحت پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 200 اراکین (کمیٹی کے 53 فیصد) یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اس لیے 19 ویں سینٹرل کمیٹی میں ان کے ناموں پر غور نہیں کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
اس طرح موجودہ سینٹرل کمیٹی سے آنے والی 19 ویں سینٹرل کمیٹی 70 فیصد تک مختلف ہو سکتی ہے اور یہ سنہ 1969 میں ہونے والی نویں پارٹی کانگریس کے بعد سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ خیال رہے کہ نویں کانگریس کے وقت چین کا 'ثقافتی انقلاب' اپنے عروج پر تھا۔
بعض اہم رہنماؤں کی تنزلی کے پس پشت گروہ بندی کی سیاست نظر آتی ہے۔ تاہم شی جن پنگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی انسدادِ بدعنوانی مہم کا مقصد حکمران جماعت پر عوام کا اعتماد بحال کرنا تھا۔
شی جن پنگ کے سب سے مضبوط سیاسی حلیف اور بدعنوانی کے خلاف پرچم بلند کرنے والے بڑے رہنما وانگ کیشان کا خیال ہے کہ اس وسیع مہم کی وجہ سے ان کے سیاسی دشمن بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
جو چیز فوج سے شروع ہوئی تھی وہ عوامی انتظامیہ پر ختم ہو گی۔
بدعنوان حکام کے خلاف وسیع کارروائی کے بعد شی جن پنگ اور وانگ کیشان کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ بدعنوان اہلکاروں سے چھٹکارا پانے کے بعد اب وہ ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے سیاسی پونجی خرچ کرنے کے بارے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
اس سے ممکنہ طور پر واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے عوام کی حمایت جیتنے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کیوں جدوجہد کی کہ قیادت کا ایجنڈا ملک کے بہترین مفاد میں ہے۔
جس طرح سے فوج پر حکومتی کنٹرول کے لیے فوجی اصلاحات کی گئیں اور بنیادی ڈھانچوں میں تبدیلی اور بڑی سٹریٹیجک تبدیلیوں کے ذریعے اس کی تجدید کاری کی گئی اسی طرح سے آنے والی کانگریس میں بعض بنیادی ساخت میں تبدیلیوں کا امکان ہے جس سے گورننس میں بہتری آ سکے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES
لیکن یہ سب بااختیار پولٹ بیورو کے ڈھانچے کی ساخت سے کیسے جڑا ہوا ہے؟
حالیہ پولٹ بیورو میں شی جن پنگ کے معتمد خاص چینی کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کے جنرل آفس کے ڈائریکٹر لی ژانشو اور تنظیم کے مرکزی محکمے کے ڈائریکٹر ژاؤ لیجی کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
صوبہ شنجیانگ میں شی جن پنگ کے دور کے وقت ان کے حمایت یافتہ افراد اور بازارِ حصص میں اصلاحات لانے کے زبردست حامیوں میں چانگ منگ پارٹی کے سیکریٹری چن مائینر، جیانگوسو پارٹی کے سیکریٹری لی کیانگ، اور بیجنگ پارٹی کے سیکریٹری، کائی کے نئے پولٹ بیورو میں شمولیت کے امکانات ہیں۔ ان میں سے چن مائنیئر اور لی کیانگ تو سٹینڈنگ کمیٹی کے بھی دعویدار ہو سکتے ہیں۔
شنگھائی سے پارٹی سیکریٹری ہان ژینگ اور مرکزی معیشت کے بڑے گروپ کے ڈائریکٹر لیو ہی دو تجربہ کار معاشی ٹیکنوکریٹس ہیں اور ان کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی کانگریس کے بعد وہ قومی قیادت میں سرکردہ معاشی فیصلہ کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔
کائی قی کو چھوڑ کر جو کہ پہلے ہی مکمل اور متبادل رکن کے طور پر سینٹرل کمیٹی میں رہ چکے ہیں بہت سے عوامی رہنماؤں کی پوزیشن میں بھی ترقی کا امکان ہے کیونکہ ان کے سیاسی کریئر میں تیزی کے ساتھ حالیہ ترقی کا راز شی جن پنگ کے ساتھ ان کے مضبوط رشتے سے ظاہر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
19ویں پارٹی کانگریس کے بعد قومی رہنماؤں کی بڑی تعداد ایسی ہوگی جن کی پیدائش سنہ 1950 کی دہائی میں ہوئی ہوگی جیسا کہ صوبائی اور وزارتی رہنماؤں کی بڑی تعداد ایسی ہوگی جن کی پیدائش سنہ 1960 کی دہائی میں ہوئی ہوگی۔
یہ ایک طرح سے طے ہے کہ نئے پولٹ بیورو، بشمول سٹینڈنگ کمیٹی میں شی جن پنگ کے پیشروؤں کے حمایت یافتہ بہت ہی کم لوگ ہوں گے۔
یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 19 ویں پارٹی کانگریس کے بعد شو کیلیانگ کے معتمد جیانگ زیمن جن کے شی جن پنگ سے بھی اچھے تعلقات ہیں، پولٹ بیورو کے رکن اور سی ایم سی کے وائس چیئرمین دونوں عہدوں پر بحال رہیں گے۔
ہو جن تاؤ کے حمایت یافتہ اور چھٹی نسل کے رہنما ہو چن ہوا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی کے مضبوط دعویدار ہیں۔
یہاں بڑا سوال یہ ہے کہ آیا شی جن پنگ باہم مخالف لوگوں اور چین کی گہری ہوتی ہوئی سیاسی اداریت سے ایک ٹیم بنا کر پارٹی کے عملے کو متحدہ کر سکتے ہیں یا نہیں۔
مسلمہ اصول و ضوابط کی پابندی اور اقتدار کی پرامن منتقلی کا پاس رکھتے ہوئے سب ملک کے مستقبل کی سمت و رفتار کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
کسی ایک مہم یا پیش قدمی کی کامیابی اور ناکامی سے زیادہ چین اور دنیا بھر کے مبصر اس بات کو جاننے کے زیادہ خواہاں ہیں کہ شی جن پنگ اور ان کے ساتھی محض چند ہفتوں کے دوران اس اہم مسئلے کا تدارک کیسے کرتے ہیں۔
چینگ لی دا بروکلین انسٹیٹیوشن کے جان ایل تھارٹن چائنا سینٹر میں سینیئر فیلو ہیں۔ ان کی تازہ ترین تصنیف میں چائنیز پالیٹکس ان دا شی جنپنگ ایرا: ری اسسیسنگ کلیکٹو لیڈرشپ (2016) اور دا پاور آف آئيڈیاز: رائزنگ انفلوئنس آف تھنکرز اینڈ تھنک ٹینکس ان چائنا (2017)شامل ہیں۔








