’چینی عملداری کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘

،تصویر کا ذریعہRonald Grant
چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے ملک کی ہانگ کانگ پر اقتدار کے خلاف 'ناقابل اجازت' چیلینجز پر واننگ جاری کی ہے۔
چینی صدر نے یہ بات وارننگ ہانگ کانگ کی نئی اور پہلی خاتون راہنما کیری لیم کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ کی عملداری کو چین کے سپرد کرنے کو بیس سال مکمل ہو چکے ہیں۔
تقریب کے باہر جمہوریت پسندوں اور چین کے حامی مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپیں پولیس کو مداخلت کر کے رکوانی پڑیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اپنے خطاب میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ 'چین کی سالمیت اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے، مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار کو چیلینج کرنے، یا ہانگ کانگ کی سرزمین کو چین کے خلاف دراندازی کے لیے استعمال کرنے جیسی کوششیں سرخ لکیر عبور کرنے جیسی ہوں گی اور ایسا کرنے کی بالکل اجازت نہیں جائے گی'۔
ان کے بقول ہانگ کانگ کو 'خودمختاری، سکیورٹی اور ترقی کے قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔' انہوں نے دعوی کیا کہ ہانگ کانگ کو ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ آزادی حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ہانگ کانگ کا بنیادی قانون 'ایک ملک دو نظام' فارمولا کے تحت بہت سی آزادیوں کی گارنٹی دیتا ہے لیکن بیجنگ کی جانب سے مکمل جمہوری اختیارات سے انکار اکثر پرتشدد مظاہروں کو جنم دیتا ہے۔
ہانگ کانگ میں یہ تحفظات بڑھتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خودمختاری کے وعدوں کے باوجود، چین کی مرکزی حکومت ہانگ کانگ کی سیاسی لبرل روایات کا پاس نہیں رکھ رہی۔
تقریب کے باہر جمہوریت پسندوں اور چین کے حامی مظاہرین کے درمیان جھڑپیس پولیس کو مداخلت کر کے رکوانی پڑیں۔ سنیچر کو ہونے والے مظاہروں میں جمہوری پسند پارٹی ڈیموسسٹو کے پانچ جب کہ لیگ آف سوشل ڈیموکریٹس کے چار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جہمویت پسند مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وونگ نے چینی صدر کو ہانگ کانگ کے عوام میں برھتی ہوئی پریشانی کا ذمہ دار قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کو مسٹروونگ سمیت 25 جمہوریت پسند کارکنوں کو گولڈن مجسمے پر چڑھنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ گولڈن مجسمہ چین کی طرف سے ہانگ کانگ کو تحفے میں دیا گیا تھا جو کہ برطانیہ کی جانب سے ہانگ کانگ کو چین کے سپرد کرنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔









