امریکہ کی نئی پالیسی میں خطے کے لیے خونریزی کا پیغام ہے: حامد کرزئی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عادل شاہ زیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی میں خطے کے لیے لڑائی اور خونریزی کا پیغام ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار پر تنقید کی ہو۔
حامد کرزئی نے بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ امریکہ کی اس سیاست میں خطے کے خلاف کوئی سازش یا کوئی حکمت عملی ہے‘۔
سابق افغان صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی میں افغانستان اور خطے کے لیے امن اور امید کا کوئی پیغام نہیں کیونکہ اس میں بات چیت اور قیام امن کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کی افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی اور شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں تقریر پر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایسا پہلی بار نہیں کہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہی چاہتا ہوں کہ پاکستان اور افغانستان آپس میں دو بھائیوں کی طرح بیٹھیں اور پاکستان سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ اب اس سارے معاملے کو سمجھے اور افغانستان کے ساتھ دوستی اور تعاون بڑھائے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان قیادت کی جانب سے پاکستان کے اندر شدت پسندوں کے خلاف امریکی کارروائی کی جانی چاہیے جیسے بیانات پر حامد کرزئی نے کہا کہ 'نہیں، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کے خلاف ملٹری ایکشن ہونا چاہیے، وہ ہم نہیں چاہتے‘۔
’ہم پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں لیکن پاکستان کو بھی افغانستان کے ساتھ ایک باعزت اور خودمختار ملک جیسا سلوک کرنا ہو گا‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے سربراہ کے حالیہ دورہ افغانستان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید تو ہے کہ یہ دورہ قیام امن کے لیے اہم اور مثبت ثابت ہو گا اور وہ اسے اسی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کریں گے۔
حامد کرزئی نے مزید کہا کہ ’ہم ایسا نہیں کہہ رہے کہ ایران، روس اور چین نے افغانستان میں میدان جنگ بنایا ہوا ہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی نئی پالیسیاں اور روش کی وجہ سے خطے کے ممالک اب شک میں مبتلا ہیں کہ امریکہ کیا کر رہا ہے افغانستان میں؟ حالات دن بدن کیوں خراب ہوتے جا رہے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ افغانستان امریکہ اور اس کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے میدان جنگ نہ بنے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، جڑے ہوئے بھائی ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں، کیونکہ پاکستان ہمارا بھائی ہے اور لازم ہے کہ ہمارے مضبوط رابطے اور رشتے رہیں‘۔







