چار نئی زبانوں میں بی بی سی کی سروس کا آغاز

بی بی سی لندن
،تصویر کا کیپشننئی زبانوں میں سروسز کے آغاز کے بعد بی بی سی کی عالمی سروس انگریزی سمیت کُل چالیس زبانوں میں دستیاب ہو جائے گی

بی بی سی نیوز انڈیا کی چار نئی زبانوں میں آج دو اکتوبر سے اپنی نشریات شروع کر رہا ہے۔

گجراتی، مراٹھی، تیلگو اور پنجابی زبانوں کی یہ سروسز سوموار کو انڈیا کے مطابق سہ پہر سے شروع ہو رہی ہیں۔

کارپوریشن کے مطابق یہ سنہ 1940 کے بعد پہلی مرتبہ ہے جب بی بی سی کی نشریات میں اتنے بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس میں یہ توسیع اس مالی امداد کے طفیل ممکن ہوئی ہے جس کا اعلان حکومتِ برطانیہ نے گذشتہ سال کیا تھا۔

ان کے ساتھ بی بی سی ہندی کا ٹی وی نیوز بلیٹن ’دنیا‘ پیر کے روز سے ایک بار پھر شروع ہو رہا ہے۔

بی بی سی ہندی کے ٹی وی نیوز بلیٹن کو انڈیا نیوز ٹی وی چینل پر انڈیا کے وقت کے مطابق شام چھ بجے دیکھا سنا جا سکتا ہے۔

بی بی سی دنیا
،تصویر کا کیپشنہندی کا ٹی وی پر نیوز پروگرام بی بی سی دنیا بھی پیر سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے

اس کے علاوہ بی بی سی تیلگو کا ٹی وی پروگرام 'پرپنچم' بھی پیر کے روز شروع ہو رہا ہے۔ اسے مقامی وقت کے مطابق 10:30 بجے 'ایناڈو ٹی وی اندھرا پردیش' اور 'ایناڈو ٹی وی تلنگانہ' پر نشر کیا جائے گا۔

دونوں بلیٹنز کے ذریعے ناظرین بین الاقوامی اور قومی خبریں گلوبل نقطہ نظر اور صحافت کے اعلی معیار کے تحت دیکھ سکیں گے۔

نئی سروز کی خدمات آن لائن اور سوشل میڈیا پر دستیاب ہوں گی۔

یہ سروسز انڈیا میں بی بی سی کی اہم سرمایہ کاری کے تحت شروع کی جا رہی ہیں۔ اس کے لیے دہلی میں بی بی سی نیوز بیورو کو توسیع دی گئی ہے اور دو نئے ٹیلی ویژن سٹوڈیوز بنائے گئے ہیں۔

لندن
،تصویر کا کیپشنلندن کے بعد دہلی بی بی سی کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے

اس کے ساتھ، برطانیہ کے باہر دہلی بی بی سی کا سب سے بڑا بیورو بن گیا ہے۔ یہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ویڈیو، ٹی وی اور ڈیجیٹل مواد تیار کرنے کا سب سے بڑا مرکز ہوگا۔

بی بی سی نیوز سروسز بشمول ہندی، بنگالی، تمل، اردو اور انگریزی بولنے والے کروڑوں افراد تک پہنچتی ہے۔

انڈیا میں برطانوی حکومت کی تقریبا 29 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں سنہ 1940 کے بعد یہ بی بی سی کی خدمات میں سب سے بڑی توسیع ہے۔

مراٹھی میں ٹی وی نیوز بلیٹن رواں سال قدرے تاخیر سے شروع ہو گی جبکہ گجراتی زبان میں اس کی ابتدا آئندہ سال ہوگی۔

بی بی سی نیوز کے تحت نئی چاروں زبانوں کی خدمات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور یو ٹیوب پر دستیاب ہوں گی۔