کیا ہندوتوا کے راستے کانگریس واپس آ سکتی ہے؟

راہل

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

اس مہینے کے اوائل میں کانگریس کے رہنما اور نائب صدر راہل گاندھی امریکہ کے دورے پر تھے۔ وہاں انھوں نے امریکہ کے کئی بڑے تھنک ٹینک اداروں اور یونیورسٹی کے طلبہ کو خطاب کیا اور انڈیا کے حالات پر سوالات کے جواب دیے۔

انھوں نے کئی جریدوں اور اخبارات کو انٹرویوز بھی دیے۔ ان کے اس دورے کا ذکر بڑے پیمانے پر ہوا۔ راہل کے جوابات اور انٹرویوز کی ستائش کی گئی اور پہلی بار انڈیا میں حکمراں بی جے پی کے نظریہ سازوں اوردانشوروں کو محسوس ہوا کہ غیر ممالک میں مودی کا اثر کم ہو رہا ہے اور راہل گاندھی کی باتوں کو لوگ اب سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

وزیراعظم مودی کی شبیہ بنیادی طور پر ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معیشت کے سبب خراب ہو رہی ہے۔ ابتدا میں ان کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ انڈیا کی معیشت میں زبردست تبدیلیاں لانے والے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ واضح ہونے لگا کہ کہ وہ اس سلسلے میں کوئی بڑا قدم اٹھانے والے نہیں ہیں۔

ملک کی معیشت کی شرح ترقی اس وقت چھ سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ معیشت سست روی کی گرفت میں ہے۔ حکومت نے عوام بالخصوص غریب عوام سے جو وعدے کیے تھے وہ کہیں پورے ہوتے ہوئے نہیں محسوس ہو رہے ہیں۔

راہل

،تصویر کا ذریعہAFP

ان حالات میں ملک کی کئی ریاستوں میں آئندہ چند مہینوں میں صوبائی انتخاب ہونے والے ہیں۔ نومبر اور دسمبر میں گجرات اور ہماچل پردیش میں انتخاب ہوں گے۔ گجرات کا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وزیراعظم مودی کی ریاست ہے جہاں وہ تین بار وزیر اعلیٰ بنے اور وہیں سے وزیر اعظم کے عہدے تک پہنچے۔

گجرات ریاست میں بی جے پی 15 برس سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔ ریاست کی عوام میں تبدیلی کی چاہت بہت واضح ہے لیکن کیا اپوزیشن کانگریس اس کا فائدہ اٹھا پائے گی؟

راہل گاندھی نے امریکہ واپسی پر سیدھے گجرات کا رخ کیا ہے اور وہاں عوام سے اپنے رابطے کی مہم کا آغاز ایک بڑے مندر میں پوجا سے کیا ہے۔ وہ کئی روز تک الگ الگ مقامات پر لوگوں سے ملتے رہے لیکن ان کا پروگرام اس طرح طے کیا گیا تھا کہ وہ ہر روز کسی نہ کسی بڑے مندر میں انھیں پوجا کرنے کا موقع ملتا۔

اسے بہت شعوری طورپر مشتہر کیا گیا ہے۔ پوجا کے وقت کی ان کی تصویریں اخبارت میں شائع ہوئیں اور ٹی وی چینلوں پر اسے دکھایا گیا۔

مبصرین اسے کانگریس کی بدلی ہوئی حکمت عملی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بہت سے سیاسی مبصرین ایک عرصے سے یہ کہتے رہے ہیں کہ کانگریس کو ملک کی سیاست میں دوبارہ واپس آنے کے لیے نرم ہندتوا کا سہارا لینا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے لوگوں پر مزہب کا اثر زیادہ ہے۔ اور بی جے پی نے کانگریس کے سیکولرازم کے اصول کو لوگوں کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے جیسے وہ ان کے مذہب کی مخالف ہو۔

راہل گاندھی نے گجرات میں جس طرح اپنی مہم شروع کی ہے وہ یقیناً موثر ثابت ہو رہی ہے ۔ گجرات بے جے پی کے لیے وقار کا سوال ہے۔ لیکن کانگریس کے لیے یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ گجرات میں کانگریس کی جیت ملک کی سیاست میں ’گیم چینجر‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

مودی

،تصویر کا ذریعہAFP

گجرات کی فضا کسی کے لیے ناموافق نہیں ہے۔ مرکز میں بی جے پی کے اقتدار میں ہونے سے اسے کچھ حد تک آسانی ہے لیکن ریاست میں تقریباً 20 برس تک مسلسل اقتدار میں رہنے سے تبدیلی کی خواہش اور بے چینی بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

لیکن صرف ہندوتوا کے نام پر جیت حاصل کرنا مشکل ہے۔ کانگریس اگر سیاست میں واپس آنا چاہتی ہے تو اسے ایک واضح متبادل پالیسی اور پلان کے ساتھ لوگوں کے سامنے آنا ہوگا ۔ کرپشن کے خلاف ایک قطعی پوزیشن لینی ہو گی اور لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ اس کی حکومت موجودہ حکومت سے کس طرح الگ، بہتر اور موثر ہوگی۔

مذہب کی بنیاد پر عوام کو وقتی طور پر تو ورغلایا جا سکتا ہے لیکن یہ بہت دیر پا ثابت نہیں ہوتا۔

کانگریس کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ وہ پالیسی اور پلان پر توجہ مرکوز کرے۔ صرف حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے مثبت پروگراموں کو اجاگر کرے۔ گجرات کا انتخاب کانگریس کے لیے ایک بہترین موقع ہے لیکن اسے ابہام جادو ٹونے اور پوجا سے نہیں ٹھوس پلاننگ اور فیصلہ کن قیادت سے جیتا جا سکتا ہے۔