مسلمان چار کروڑ، امیدوار ایک بھی نہیں

نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبی جے پی نے اترپردیش جیسی ریاست میں اپنا ایک بھی مسلم امیدوار نہیں بنایا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخاب سے قبل جب گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ انھوں نے گجرات کا قرض چکا دیا ہے۔ اب انھیں ملک کاقرض چکانا ہے۔

اس جملے سے ان کی کیا مراد تھی یہ تو معلوم نہیں لیکن ان کے حامی اس سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ انھوں نے گجرات میں تو مسلمانوں کو سبق سکھا دیا ہے اب وہ پورے ملک میں انھیں سبق سکھا سکھائیں گے۔

مودی نے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی اور خود اپنے ہندوتوا کے نظریے کو الگ رکھا اور صرف ترقی اور شفاف حکومت قائم کرنے کی باتیں کیں۔ لیکن پارلیمانی انتخاب میں انھوں نے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش سے ایک بھی مسلم کو امیدوار نہیں بنایا۔

2014 کا پارلیمانی انتخاب بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا پہلا ایسا انتخاب تھا جس میں اقتدار میں آنے والی حکمراں جماعت میں ایک بھی مسلم رکن نہیں تھا۔ ملک میں مسلمانوں کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی آزادی کے بعد سب سے کم ہے۔

بی جے پی ابتدا سے ہی ہندو قوم پرست نظریے پر عمل پیرا رہی ہے اور اس نظریے میں کچھ حد تک مسلمانوں کے بارے میں شکوک وشبہات کا پہلو بھی شامل رہا ہے۔ ایک مرحلے پر وہ آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے نظریے سے پوری طرح متفق تھی۔ لیکن بعد میں پارٹی نے یہ واضح کیا کہ وہ ایک مذہبی مملکت میں یقین نہیں رکھتی۔

بی جے پی حامیان

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے رہنما امت شاہ کے بیان سے یہ نظر آتا ہے کہ ان کی پارٹی اپنے ہندتوا کے ایجنڈے پر قائم ہے

سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جن سنگھ اور اس کے بعد نئی شکل میں سامنے آنے والی بی جے پی کے اعتدال پسند رہنماؤں میں شمار کیے جاتے تھے۔ واجپئی اور بی جے پی کے ان کے بہت سے ہمنوا رہمنا پارٹی کو ایک اعتدال پسند جمہوری پارٹی میں تبدیل کرنا چاہتے تھے لیکن آر ایس ایس کے زیر اثر قوم پرست عناصر پارٹی کے اندر اس بحث میں ہمیشہ غالب رہے اور بی جے پی اپنے ہندو قوم پرستانہ نظریے سے باہر نہ آ سکی۔

مودی نے اگرچہ 'سبھی کو ساتھ لے کر چلنے' کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے لیکن یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انھوں نے اتر پردیش کی 403 سیٹیوں کے لیے چار کروڑ مسلمانوں میں سے ایک کو بھی اپنا امیدوار نہیں بنایا۔

پارٹی کے صدر امیت شاہ اپنے انتخابی جلسوں میں ہر جگہ یہ بات زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آگئی تو اسی وقت پوری ریاست میں ذبح خانوں پرپابندی عا ئد کر دی جائے گی۔ ان کا یہ بیان مسلمانوں کے رہن سہن اور معاشرتی روایات پر براہ راست چوٹ ہے۔ انھوں نے سیاسی جماعتوں کو ہی نہیں مسلمانوں کو بھی بی جے پی کا حریف قرار دیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس اور دوسری غیر بی جے پی جماعتیں ہندوتوا اور آر ایس ایس کا خوف پھیلا کر مسلمانوں کو بی جے پی سے بد ظن کرتی رہیں اور انھیں محض ووٹ بینک بنا کر ان کے انتخابی اثرات کو محدود کر دیا۔ گذشتہ 40 برس سے مسلمانوں کے لیے انتخاب کا مطلب صرف بی جے کواقتدار سے روکنا رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے خوف کی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو اصل قومی دھارے میں آنے سے ایک طویل عرصے تک روکے رکھا۔

مسلم خواتین

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشناترپردیش میں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے

برسوں کی سیاست کے بعد مسلمان اب یہ تو سمجھ گئے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے ان کا مسلسل استحصال کیا ہے۔ وہ نئے متبادل کی تلاش میں ہیں۔ اور اس متبادل میں ابھرتی ہوئی جماعت ‏عام آدمی پارٹی کے ساتھ ساتھ بی جے بھی شامل ہے۔ لیکن اترپردیش جیسی ریاست میں جہاں ملک کے 20 فی صد مسلم آباد ہیں وہاں ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہ بنانا اس بات کا عکا س ہے کہ بی جے پی بھی اسی ڈگر پر ہے جس پر کچھ عرصے پہلے تک مسلمان چل رہے تھے۔

وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ اگر مسلمان اسے ووٹ نہیں دیتے، نہ دیں، اسے بھی مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہیے۔ بی جے پی اس وقت تک یہ تو سمجھ چکی ہے کہ ہندوتوا کے نام پر اب اقتدار نہیں حاصل کیا جا سکتا۔ ہندوستان میں 18 کروڑ مسلم آباد ہیں۔ اسے یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نظریے کی بنیاد پر وہ اتنی بڑی برادری کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ دور انڈیا کی سیاست میں تغیر کا دور ہے۔ اس سیاسی تغیر میں مسلمانوں سے کہیں زیادہ بی جے پی کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانی ہو گی۔