دو دن سے بنگلہ دیش میں روہنگيا کی آمد میں کمی دیکھی گئی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ تشدد سے بچنے کے لیے میانمار سے نقل مکانی کر کے آنے والے روہنگیا تارکین وطن کی تعداد میں گذشتہ دو روز کے دوران خاصی کمی دیکھی گئی ہے۔
لیکن تارکین وطن سے متعلق عالمی تنظیم ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ (آئي او ایم) کی ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ابھی یہ کہنا بہت جلد بازی ہوگی کہ ان کی آمد کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔‘
میانمار میں تشدد سے بچنے کے لیے جو روہنگیا بنگلہ دیش پہنچ رہے ہیں اس میں کمی کی وجہ کیا ہے اس کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آئی او ایم کی ترجمان پیپی صدیق نے بی بی سی کو بتایا ’گذشتہ دو روز سے نئے آنے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ ریاست رخائن میں کیا ہو رہا ہے اس بارے میں ہمیں زیادہ کچھ پتہ نہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل بنگلہ دیش کے بارڈر گارڈز کی جانب سے سنیچر کو ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ نئی آمد و رفت تقریباً رک چکی ہے۔
بنگلہ دیشی گارڈز کے کمانڈر ایس ایم عارف الاسلام نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہمارے محافظوں نے گذشتہ دو روز سے کسی روہنگیا کو آتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، لہر ختم ہوچکی ہے۔‘
گذشتہ 25 اگست کو جب میانمار کی فوج نے کارروائی شروع کی تھی، اس وقت سے اب تک چار لاکھ سے بھی زیادہ روہنگيا میانمار کے صوبے رخائن سے بچ کر بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میانمار کی فوج پر عام شہروں کو نشانہ بنانے، اور روہنگیا مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کا الزام ہے اور اس پر کئی حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی بھی ہوئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن میانمار کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ ہونے والے جنگجوؤں کے حملے کا جواب دینے کے لیے کارروائی کی اور وہ شہریوں کے نشانہ بنائے جانے سے انکاری ہے۔ لیکن عینی شاہدین، نقل مکانی کرنے والے افراد اور صحافیوں نے حکومت کے موقف کو مسترد کیا ہے۔
خیال رہے کہ شمالی صوبے رخائن میں پولیس کی چوکیوں پر حملے کے بعد سے فوج نے حملہ آوروں کے خلاف ایک آپریشن شروع کیا تھا۔
ادھر تارکین وطن سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر فلپو گرانڈی نے کہا ہے کہ بنگلہ دیس کے کوکس بازار کے خیموں میں جن حالات میں انھوں نے روہنگيا مسلمانوں کو رہتے ہوئے دیکھا ہے اس سے انھیں کافی صدمہ پہنچا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے بی بی سی سے بات چيت میں کہا: 'سب سے بڑا چیلنچ انھیں رہنے کے لیے ایک مناسب جگہ فراہم کرنا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں ان لوگو نے عارضي کیمپ قائم کیے ہیں وہ بہت چھوٹی جگہ ہے اور وہاں پہلے ہی سے بہت گھنی آبادی ہے۔
اس دوران میانمار کی حکومت نے صوبے رخائن میں ایک اجتماعی قبر دریافت کرنے کا دعوی کیا ہے۔ اس قبر میں 28 افراد کی لاشیں ہیں جن میں سے بیشتر خواتین کی بتائی جا رہی ہیں۔
میانمار کی حکومت کا کہنا ہے کہ قبر میں پائی جانے والی لاشیں ہندؤں کی ہیں اور دعوی کیا ہے کہ انھیں روہنگیا انتہاپسندوں نے قتل کیا ہے۔
چونکہ صوبے رخائن میں کسی کے بھی داخلے پر پابندی عائد ہے اس لیے حکومت کے اس دعوے کی کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔










