انڈیا چین کشیدگی کے دوران کون ہارا اور کون جیتا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا اور چین کی افواج گذشتہ تین ماہ سے ڈوکلام سرحد پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار نظر آ رہی تھیں لیکن اب دونوں ممالک نے وہاں سے اپنی اپنی فوج ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ امور وزارت نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے مفادات اور خدشات پر دو طرفہ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے ڈوکلام سے اپنی فوجی ہٹانے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا کے اس فیصلے پر بی بی سی کے نمائندے پنکج پریہ درشی نے انسٹی ٹیوٹ آف چائنیز سٹڈیز کے سینیئر فیلو اتل بھاردواج سے بات کی۔
فوج کو ہٹانے کے فیصلے کا مطلب کیا ہے؟
انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے گذشتہ تین ماہ سے ڈوکلام پر انڈیا اور چین کے درمیان جو کشیدگی تھی اس میں کمی آئے گی اور ایک نیا دور شروع ہو گا۔ انڈیا کے وزیراعظم پانچ ممالک کی تنظیم برکس کانفرنس کے لیے چین کا دورہ کریں گے اور اس سے قبل فوج ہٹانے کا فیصلہ اہم ہے۔
برکس کانفرنس کی کامیابی کے لیے یہ ضروری تھا کہ اس کے دو اہم ارکان خوشگوار ماحول میں بیٹھ کر بات چیت کر سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین نے کہا تھا کہ جب تک انڈیا وہاں سے اپنی فوج نہیں ہٹاتا ماحول کو خوشگوار نہیں سمجھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بہر حال انھوں نے کہا کہ اس صورت حال کا طویل عرصے تک قائم رہنا قدرے مشکل ہے کیونکہ انڈیا کے لیے سکیورٹی کا معاملہ باعث تشویش ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انڈیا میں چین کی سرمایہ کاری کے امکانات اور میک ان انڈیا کے تحت ہندوستان کی چینی بازار میں رسائی کے پیش نظر اس طرح کی صورت حال کا قائم رہنا مشکل ہے۔
کڑے رخ کے باوجود اس طرح کا فیصلہ کیوں؟
اتل بھاردواج نے بتایا کہ یہ ایک دانشورانہ قدم ہے کیونکہ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کا نتیجہ جنگ تھا اور شاید دونوں ممالک ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف جانی و مالی نقصان ہوگا بلکہ جن محاذ پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ ہیں وہ بھی خراب ہو جاتا۔
انڈیا اور چین دونوں ممالک سارک، شنگھائي تعاون تنظیم، برکس جیسے سٹیج پر ایک ساتھ ہوتے ہیں اور یہاں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی معاملات پر بات ہوتی ہے جو سکیورٹی خدشات کے باعث ختم نہیں ہو سکتی ہے۔
سفارتی سطح پر کس کی جیت ہے؟
اتل بھاردواج نے کہا کہ سفارت کاری میں ایسی ہی صورت حال پیدا کی جاتی ہے کہ دونوں ایک قدم آگے آئیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ انڈیا نے اپنے فوجیوں کو ڈوکلام روانہ کیا تھا اور اس وقت سفارتی طور پر سوچا نہیں تھا۔
اگر چین اس علاقے میں سڑک کی غلط تعمیر کر رہا تھا تو انڈیا کو سفارتی طور پر احتجاج کرنا تھا۔
براہ راست فوج بھیجنے سے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ چین بھڑک گیا اور کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ چین جنگ کا اعلان بھی کرسکتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس صورت حال سے اب ہم آگے بڑھ چکے ہیں اور یہ ایک مثبت قدم ہے۔
کیا انڈیا کا رویہ جارحانہ تھا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سوال کے جواب میں اتل بھاردواج نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انڈیا کا رویہ قدرے جارحانہ تھا۔ انڈیا کی فوج جس جگہ پر تھی وہ ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ بھوٹان اور چین کا حصہ ہے۔ انڈیا کو کوئی نقصان نہیں تھا۔
انڈیا نے کیا سیکھا؟
اتل بھاردواج نے کہا کہ انڈیا کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار جنگیں ہوئیں۔ اس کا آخر کیا نتیجہ نکلا؟
چین اور ہندوستان کے درمیان ایک اقتصادی خلیج ہے۔ انڈیا کو یہ سوچنا ہوگا کہ اس خلیج کو کس طرح کم کیا جائے۔
انھوں نے کہا: 'پاکستان اور انڈیا کے درمیان بھی ایک خلیج ہے جسے پاکستان نے منفی طریقے سے بھرنے کی کوشش کی ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ چین کے ساتھ اس فرق کو کیسے بھرا جائے؟ فوج، دفاع یا پھر کوئی اور طریقہ!'











