'علی گڑھ تحریک میں سماجی اصلاح کا پہلو بہت کم تھا'

- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
علی گڑھ تحریک کو اگر ہندوستان کے پس منظر میں دیکھیں تو یہ ایک قسم کا نشاۃ الثانیہ ہے جسے انڈیا کے نشاۃ الثانیہ کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے، جس طرح بنگال کا نشاۃ الثانیہ بھی اس کی تاریخ کا حصہ تھا۔
اگر آپ سر سید کے طرز تخیل کو دیکھیں تو آپ یہی پائیں گے کہ ان پر جدید تہذیب کا دو طرح سے اثر ہوا۔
ایک یہ کہ جب انگریزی تعلیم اور تصانیف سے ان کی واقفیت ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ تعلیم اور سائنس کی ایک بالکل نئی دنیا کھلتی ہے۔
تاریخ جیسے روایتی مضامین بھی بالکل نئی طرح سے ان کے سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ اس سے متاثر ہو کر انھوں نے ’آثارالصنادید‘ لکھی۔ ان سے پہلے فارسی اور اردو میں تاریخی عمارتوں پر ایسی کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔
انھوں نے 1857 کی بغاوت سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ اگر آج کوئی آپ سے پوچھے کہ 1857 کے واقعے کے قریب ترین کون سی کتاب ہے تو وہ بلاشبہ سرسید احمد کی کتاب 'اسباب بغاوت ہند' ہے۔

،تصویر کا ذریعہAMU Aligarh
وہ جا بجا انگریزوں کی حمایت کرتے تھے لیکن انھوں نے جو اسباب لکھے اس میں ان چیزوں کا بھی ذکر تھا جس پر انگریزوں کی نگاہ نہیں گئی تھی یعنی انھوں نے زمینداروں اور کسانوں کے مسائل کا بھی ذکر کیا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس میں ہندو اور مسلمان کا کوئی جھگڑا نہیں تھا، دونوں برابر کے شریک تھے اور اس لیے دونوں کو سزا ملنی چاہیے۔
دوسری بات جس کا علی گڑھ تحریک پر گہرا اثر پڑا وہ ولیم میور کی تصنیف تھی جس میں پیغمبر اسلام کی وہ تصویر ابھرتی ہے جو جدید اخلاقیات کے منافی تھی۔ یہ کتاب طبری اور دوسرے مستند عربی مآخذ پر مبنی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرسید احمد اس سے بہت پریشان ہوئے اور انھوں نے اس کا جواب لکھا۔ انھوں نے میور کو جو جواب دیا ہو وہ اپنی جگہ لیکن وہ دراصل ان مآخذ کی نکتہ چینی ہے جنھیں میور نے استعمال کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہShib Shankar Chatterjee
ان کا خیال تھا کہ 'ورڈ آف گاڈ' کو 'ورک آف گاڈ' سے مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ ان کے نزدیک سائنس کو مذہب پر فوقیت تھی۔
سرسید نہ صرف علی گڑھ بلکہ الہ آباد یونیورسٹی میں بھی انگریزی اور سائنس کی تعلیم پر بھی بہت زور دیتے تھے۔
علی گڑھ تحریک کا ایک تیسرا جز برطانوی حکومت سے وفاداری تھا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ سرسید نے سر کا خطاب حاصل کرنے کے لیے کانگریس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ہندوستان میں جدید تہذیب کا اثر صرف برطانوی حکومت کے سائے تلے ہی آ سکتا ہے۔ اس میں دوسرے معاملے بھی شامل ہوئے کہ مسلم متوسط طبقے کا کیا ہو گا اور ملازمتوں پر بنگالیوں کا تسلط کیوں ہے۔ یہ سب چھوٹے چھوٹے مسئلے تھے۔ اصل مسئلہ تھا جدید تعلیم کا۔

،تصویر کا ذریعہAMU Aligarh
یہ مسئلے ختم ہو گئے کیونکہ قومی تحریک بھی جدید تعلیم چاہتی تھی اور مسلم لیگ نے بھی سنہ 1916 میں ہوم رول کے لیے کانگریس سے معاہدہ کر لیا۔ مسلم ليگ کتنی ہی فرقہ پرست کیوں نہ ہو، قدامت پرست نہیں تھی۔ بلکہ الٹا دیوبند کا مدرسہ کانگریس کے ساتھ تھا۔
علی گڑھ تحریک میں بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جو قومی تحریک میں شامل ہوئے جن میں محمد علی، شوکت علی، حسرت موہانی وغیرہ کا نام آتا ہے۔ حسرت موہانی جب علی گڑھ میں تھے تو سی آئی ڈی نے کہا تھا کہ ان کے کمرے میں تلک اور گوکھلے کی تصویریں ہیں اور وہ جیل گئے۔
ایک زمانے میں سنہ 1930 سے 1938 تک علی گڑھ میں کانگریس کا خاصا اثر تھا۔
علی گڑھ تحریک میں یہ ایک بہت بڑی کمی تھی کہ اس میں سماجی اصلاح کا پہلو بہت کم تھا۔ سرسید احمد کا صرف ایک شادی پر اصرار تھا اور شاید وہ بھی اس لیے کہ انگریزوں کو ایک سے زائد شادیاں پسند نہیں تھیں بلکہ ان کے یہاں کثیر الازدواجی جرم تھا۔
خواتین کی تعلیم کے معاملے میں کہیں کہیں سرسید نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عورتوں کو صرف اس حد تک خواندہ بنا دیا جائے کہ وہ خط پڑھ سکیں، اس سے زیادہ کی انھیں ضرورت نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAMU Aligarh
لیکن ہندوستان میں اس سے قبل خواتین کی تعلیم کی جو ہوا چل رہی تھی اور کیشب چندر اور ان سے قبل ودیا ساگر وغیرہ نے اس کے لیے جو تحریک چلا رکھی تھی اس کے اثرات علی گڑھ پر بھی پڑے اور سرسید کی موت کے بعد شیخ عبداللہ نے یہ تحریک شروع کر دی کہ یہاں بھی لڑکیوں کا سکول اور کالج ہونا چاہیے جو بعد میں قائم ہوا اور بی اے تک ان کی تعلیم ہونے لگی لیکن آزادی سے پہلے تک ایم اے متعارف نہیں کرایا جا سکا تھا۔
اول اول طلبہ اور طالبات کے درمیان ایک پردہ حائل ہوا کرتا تھا جو رفتہ رفتہ ختم ہو گیا۔ برقع بہت کم لڑکیاں اوڑھتی تھیں جب کہ آج کل یہ رواج بڑھ گیا ہے۔ یعنی حجاب کا کوئی نظام نہیں تھا۔ بہر حال اس تحریک کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتاہے کہ مسلمانوں میں جدید تعلیم عام ہوئی۔
٭ معروف تاریخ داں اور علی گڑھ میں پروفیسر عرفان حبیب نے ہمارے نامہ نگار مرزا اے بی بيگ سے گفتگو کرتے ہوئے علی گڑھ تحریک پر اپنے خیلات کا اظہار کیا۔








