اترپردیش: گوشت کے تاجر پیر سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر

انڈیا ہڑتال
،تصویر کا کیپشنیہ ہڑتال گذشتہ دو دنوں سے غیر اعلانیہ طور پر جاری ہے

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست میں غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف وزیر اعلی اور بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کی کارروائی کی مخالفت میں گوشت کے تاجروں نے سوموار سے غیر معینہ مدت تک کے لیے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ ہڑتال غیر اعلانیہ طور پر دو دن پہلے سے ہی جاری ہے لیکن سوموار سے یہ ریاستی سطح پر پورے اترپردیش میں نافذ کی جا رہی ہے۔

لکھنؤ میں گوشت اور مرغ کے تاجروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کے ریاستی صدر چودھری اقبال قریشی نے بی بی سی کو بتایا: ویسے تو 25 مارچ سے ہی اس ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن بہت سے لوگوں کے پاس پرانا سٹاک رکھا تھا اس لیے اسے فروخت کرنے کے بعد اب پیر سے تمام کاروباری ہڑتال کریں گے۔

اقبال قریشی کا کہنا تھا کہ ہڑتال کے دوران گوشت کی تمام دکانیں بند رہیں گی اور مچھلی کاروباری بھی ان کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہوں گے۔ وہیں گوشت تاجروں کی بعض دیگر تنظیموں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اقبال قریشی کا دعوی ہے کہ ان کی تنظیم پوری ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔

دراصل، اتر پردیش میں غیر قانونی مذبح خانوں پر نئی حکومت کی جانب سے قدغن کے اثرات کاروبار سے لے کر لوگوں کے ذائقے تک پر نظر آ رہے ہیں۔

گوشت کی دکان

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGE

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کے بعد اس کے خلاف کارروائی جاری ہے

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں گوشت کی فراہمی میں کمی کے سبب بہت سے معروف ہوٹل متاثر ہوئے ہیں جبکہ غیر قانونی مذبح کے خلاف انتظامیہ کی مسلسل کارروائی جاری ہے اور اب تک سینکڑوں غیر قانونی مذبخ خانے بند کرائے جا چکے ہیں۔

ایسی صورت میں گوشت تاجروں کی تنظیم نے ریاست بھر میں ہڑتال کی کال دے کر حکومت کے فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کیا ہے۔.

دراصل، بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں اس کا وعدہ کیا تھا اور ان کی حکومت بنتے ہی انتظامیہ اسے پورا کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

دریں اثنا وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو ایک بار پھر حکومت کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ جو دکانیں اور مذبح خانے پرمٹ کے ساتھ ہیں انھیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن جو غیر قانونی ہیں انھیں بخشا نہیں جائے گا۔

گوشت تاجروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی مذبح خانوں پر کارروائی کرنا ٹھیک ہے لیکن کم از کم انھیں کچھ وقت تو دیا جاتا۔ تاجر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں لائسنس حاصل کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔

اقبال قریشی کا کہنا ہے کہ 'لکھنؤ میں کل لائسنس کی تعداد 603 ہے۔ ان میں سے 340 لائسنس کی تجدید کی گئی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں بغیر لائسنس کے چل رہی ہیں اور لکھنؤ میونسپل نے بڑی تعداد میں ایسی دکانوں کو بند کرا دیا ہے۔'

ہوٹل

،تصویر کا ذریعہSHAMEEM AARZU

،تصویر کا کیپشنگوشت کی قلت کے سبب معروف ریستوراں بھی متاثر ہو رہے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ ' کئی لوگوں نے تو پوچھ گچھ اور کارروائی کے خوف سے انھیں از خود بند کر دیا۔ محکمہ خوراک میونسپل کے لائسنس کو تسلیم نہیں کرتا لیکن کارروائی صرف ان دکانوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو میونسپل کمشنر کی اجازت کے بغیر کھلی ہیں۔'

انڈیا میں مذبح خانوں کے متعلق قانون سنہ 1950 کی دہائی کا ہے۔ جبکہ انھیں رہائشی علاقوں سے دور لے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے علاوہ قومی گرین ٹربیونل بھی حکم جاری کر چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے سنہ 2012 میں حکم دیا تھا کہ تمام ریاستی حکومتیں ایک کمیٹی بنائیں جس کا کام شہروں میں مذبح کی جگہ طے کرنا اور ان کی تجدیدکاری کو یقینی بنانا ہو۔ اس کے باوجود بہت سے بوچڑ خانے غیر قانونی طریقے سے ابھی تک چل رہے ہیں۔

حکومت کے اس فیصلے کا اثر لکھنؤ کے معروف ٹنڈے کباب پر بھی پڑا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار انھیں اپنی دکانیں بند کرنی پڑی ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تاجروں کا ایک طبقہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔