'مسلمانوں میں تھوڑا خوف پھیلانا تو ضروری ہے'

یوگی آدتیہ ناتھ

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں سخت گیر ہندو نظریات کے حامل یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلی بنایا گيا ہے
    • مصنف, راجیش جوشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

'اتر پردیش میں یوگی جی کیا کر رہے ہیں؟' فون پر سوال پوچھنے والے میرے پرانے واقف کار حال ہی میں سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئے ہیں اور خاندانی طور پر کانگریس کے ووٹر ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، جواب انھی کی جانب سے آیا 'یوگی جی بوچڑخانوں کے خلاف کارروائی کرکے ٹھیک ہی تو کر رہے ہیں۔ مسلمانوں میں تھوڑا بہت ڈر پھیلنا ضروری ہے۔'

مجھے برسوں پہلے کے انھی کے الفاظ یاد آ گئے۔ ملک کے کئی حصوں میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے سکھ مخالف فسادات نے انھیں بے چین نہیں کیا تھا بلکہ وہ ان فسادات کو 'کورس كریكشن' کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

تب بھی انہوں نے کہا تھا: سردار کچھ زیادہ ہی سر پر چڑھ گئے تھے۔ انھیں تھوڑا بہت سبق سکھایا جانا ضروری تھا۔

میرے یہی پرانے خاندانی دوست اپنے ساتھ کام کرنے والے دلت (پسماندہ یا نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے) ملازمین کو کئی بار مزاحیہ لہجے میں 'سرکاری داماد' کہتے رہے ہیں۔

پسماندہ طبقے کے افراد کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینے کے لیے منڈل کمیشن کی رپورٹ نافذ کروانے والے سابق وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ ان کے خیال میں سب سے بڑے ولین تھے۔

مذبح

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنابھی تک گوشت کی برآمدات کے معاملے اترپردیش پیش پیش تھا لیکن غیر قانونی مذبح خانوں پر پابندی سے یہ کاروبار متاثر ہو رہا ہے

یعنی ان کے خواب کے انڈیا میں مسلمانوں اور سکھوں کو ڈر کر رہنا ہوگا، دلتوں اور پسماندہ طبقے کی 'داماد' جیسی خاطر مدارات نہیں کی جائے گی۔ یعنی ملازمتوں اور یونیورسٹیوں میں انھیں ریزرویشن نہیں دیا جائے گا اور انڈیا کے پاس جوہری بموں کا ایسا ذخیرہ ہوگا جو پاکستان اور چین کو پلک جھپکتے ہی راکھ کر دے گا۔

اتر پردیش میں 'غیر قانونی' بوچڑخانوں (مذبح) کے خلاف جاری کارروائی کو یوگی کے فیصلہ کن لیڈر ہونے کے ثبوت کے طور پر دیکھنے والے وہ تنہا نہیں ہیں۔

دہلی میں اوبر ٹیکسی چلانے والے ایک ڈرائیور نے بھی بات چیت کے دوران کہا: ’کام ہوگا جی، کام ہوگا، اب دیکھو نا، بوچڑخانے بند تو کر رہے ہیں یوگی جی، اور بھی کام ہوں گے۔‘

اور کام ہو رہے ہیں۔ بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کے فوراً بعد پارٹی کے انتخابی وعدوں کو نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔

بوچڑخانوں کے ساتھ ساتھ ریستوراں، پارکوں، گلیوں، محلوں میں خاکی ورديوں میں ملبوس پولیس اہلکار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو روک کر ان کے شناختی کارڈ دیکھ رہے ہیں، ان سے کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کروا رہے ہیں اور اخلاقیات کے سبق سکھا رہے ہیں۔

مذبح

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنبی جے پی اپنے انتخابی وعدے پورا کرنے میں لگی ہے اور اس کا براہ راست اثر ریاست کی مسلم آبادی پر ہو سکتا ہے

لیکن اگر آپ سکول یا کالج جانے والی کسی نوعمر لڑکی کے والد سے کہیں کہ یوگی کا یہ فیصلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، تو وہ سب سے پہلے آپ کے انسانی حقوق کو پامال کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔

بہر حال یہ سچ ہے کہ جو کام اب تک 'ویلنٹائنس ڈے' کو بجرنگ دل اور ہندو سینا جیسی سخت گیر تنظیموں کے کارکن زعفرانی پٹکے پہن کر کیا کرتے تھے، اس کام کو اب ریاستیں اور اس کی پولیس مکمل طور قانون کے دائرے میں انجام دے رہی ہیں اور اسے لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔

یوگی انتظامیہ کو بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ، اگر یوپی پولیس اسے ہفتہ وصولی کا ذریعہ نہ بنا لے تو اس سے حکومت کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔

انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں بی جے پی سنجیدہ نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی لیڈروں نے ہر پلیٹ فارم سے یوپی کے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپیزمنٹ نہیں کرے گی۔

اگر قبرستان کے لیے زمین ملتی ہے تو شمشان کے لیے بھی ملے گی۔ پارٹی کو اترپردیش کے چار کروڑ مسلمانوں میں سے اسمبلی بھیجے جانے لائق ایک بھی مسلمان نہیں ملا۔ یا یوں کہیں کہ تلاش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔

انتخابات کے نتائج آنے پر یہ ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کی 'ٹیكٹیكل ووٹنگ' کسی کام کی نہیں رہی اور یہ بھی کہ ہندو نظریاتی پارٹی بی جے پی کو اپنی سیاسی کامیابی کے لیے مسلمانوں کی ضرورت نہیں ہے۔

جن مسلمانوں کو اب تک اندرا گاندھی کی کانگریس، سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، اس سے پہلے انڈین لوک دل، دلت مزدور کسان پارٹی وغیرہ اپنے ساتھ رکھنا ضروری سمجھتی تھیں، انھیں بی جے پی اترپردیش کے سیاسی پس منظر سے باہر کر ہی چکی ہے۔

بی جے پی کارکن

،تصویر کا ذریعہAFP/GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشناترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے نتائج نے علامتی طور پر دلت اور مسلمانوں کو حاشیے پر لا کھڑا کیا ہے

اور اب وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے اعلان کر دیا ہے کہ غیر قانونی بوچڑخانوں کو گندگی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میرٹھ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ستیش پرکاش اسے براہ راست مسلمانوں اور دلتوں کے روزگار کے ذریعہ معاش پر کڑی ضرب کہتے ہیں۔.

ان کا کہنا ہے کہ گوشت اور چمڑے کے کاروبار سے لاکھوں مسلمان اور دلت منسلک ہیں اور حکومت کے فیصلے سے ان کے روزگار پر اثر پڑے گا۔

اثر پڑتا ہے تو پڑتا رہے۔ لیکن بی جے پی اور سنگھ پریوار کے پالیسی سازوں کو معلوم ہے کہ بوچڑخانوں کے خلاف کارروائی سے ایک علامتی پیغام بھی جاتا ہے۔.

اسے ناپاکی کے خلاف پاکیزگی کے حامیوں کی مہم کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے یا یہ کہ گوشت کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناپاکی کے خلاف گورکھ ناتھ مٹھ کی ایک قسم کی مقدس مہم کے طور پر دیکھی جائے گی۔

گوشت خوری کو کریہ گناہ اور غلیظ کام ماننے والی برادریوں کے لیے بوچڑخانے بند ہونا 'رام راج' کی پہلی آہٹ جیسا ہے۔

اس پر اگر میرے پرانے واقف اور دہلی کے اوبر ڈرائیور تک یہ پیغام جا رہا ہے کہ ناپاکی کے خلاف یوگی کی اس مقدس مہم سے 'مسلمانوں میں خوف' پھیل رہا ہے تو گورکھناتھ مٹھ کے ناظم کا نصف کام آسان ہو گیا ہے۔