پاکستان کے ساتھ رشتوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے: جنرل جان نکلسن

نیٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل نکلسن کے مطابق پاکستان کے ساتھ رشتوں پر بات کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے

افغانستان میں تعینات امریکی اور عالمی فوج کے کماندار جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات پر مکمل نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور عین ممکن ہے کہ اس جائزے سے امریکہ کو اس تکلیف دہ اتحاد کے لیے کسی نئی حکمتِ عملی کی راہ مل جائے۔

جنرل نکلسن نے جمعرات کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان کے ساتھ ہمارے پیچیدہ رشتوں کے بارے میں بہترین نتیجے پر ایک مکمل جائزے کے بعد ہی پہنچا جا سکتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹیس اور وائٹ ہاؤس کے ساتھ ان کی جو بات چيت ہو گی اس میں پاکستان کے ساتھ رشتوں پر بات کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

افغانستان میں عالمی اور امریکی فوج کی قیادت کرنے والے امریکی جنرل جان نکلسن کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے تئیں سخت پالیسیاں اپنا سکتی ہے۔

فوجی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس وقت افغانستان میں کل 1330 نیٹو فوجی تعینات ہیں

اس سے قبل افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فوجوں کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ انھیں طالبان کے ساتھ جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے مزید ’چند ہزار‘ فوجیوں کی ضرورت ہے۔

جنرل جان نکلسن نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ ان کے پاس انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے کافی فوجیں ہیں۔

تاہم انھوں نے زور دیا کہ انھیں افغان فوج کہ تربیت میں مدد کے لیے اضافی فوجی درکار ہیں۔ انھوں نے روس اور ایران پر افغانستان میں نیٹو کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔

جمعرات کو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے جنرل نکلسن نے کہا کہ ’ہمیں چند ہزار کی کمی کا سامنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے سامنے رکھ چکے ہیں۔

امریکہ کی طالبان کے خلاف جنگی آپریشن سنہ 2014 میں باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوگئے تھے تاہم خصوصی فوجی دستوں کی جانب سے افغان فوجیوں کو مدد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

نیٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

افغان فوجوں کو گذشتہ دو برسوں میں بھاری جانی نقصان کا سامنا رہا ہے۔

جنرل نکلسن نے ملک کی حالیہ صورتحال کو ’جنگی توقف‘ کے طور پر بیان کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیمانہ حکومت کے حق میں ہے۔

انھوں نے بیرونی عناصر خاص طور پر روس، پاکستان اور ایران کے اثرورسوخ کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اثرورسوخ کے باعث طالبان کی مدد اور انھیں قانونی حیثیت دی جارہی ہے اور افغانستان میں استحکام کے لیے افغان کوششوں کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔