نیٹو: سامراجی عزائم نہیں ہیں

ایڈمرل جیمپاؤلو ڈی پاؤلا
،تصویر کا کیپشنایڈمرل جیمپاؤلو ڈی پاؤلا نے پاکستان کے عزم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے

نیٹو کی ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل جیمپاؤلو ڈی پاؤلا کا کہنا ہے کہ نیٹو کے پاکستان اور افغانستان میں کسی طرح کے سامراجی عزائم نہیں ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں تیزی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور نیٹو کے مابین تعلقات بڑھ رہے ہیں۔

ایڈمرل جیمپاؤلو ڈی پاؤلا نے کہا کہ اگر افغان حکومت نے نیٹو کو ملک سے نکلنے جانے کو کہا تو وہ وہاں نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے خلاف جنگ عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروے جن شدت پسندوں کی حمایت کرتے تھے اب انہوں نے وہ تعلقات توڑ لیے ہیں۔

ان کے بقول اس بات کا سب سے بڑا ثبوت فوجی اور شہری جانوں کا وہ نقصان ہے جو قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں فوجی کارروائیوں کے دوران ہوا۔

ایڈمرل ڈی پاؤلا کا کہنا تھا کہ ’میں اعتماد کے ساتھ کہ سکتاہوں کہہ اب ایک واضح جنگ ہے، ایسی جنگ جہاں وہ اپنے شہریوں اور فوجی جانوں سے، اور گھر بار چھوڑ کر قیمت ادا کر رہے ہیں۔‘

امدادی اداروں کے اندازوں کے مطابق صوبہ سرحد میں بیس لاکھ کے لگ بھگ شہریوں کو اپنے گھروں اور علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔

ایڈمرل ڈی پاؤلا نے کہا کہ اگر پاکستان اس جنگ میں سنجیدہ نہ ہوتا تو وہ اتنی بھاری قیمت نہ چکاتا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان نیٹو ممالک کی توقعات سے زیادہ دشوار ثابت ہوا تاہم وہاں لڑی جانے والی جنگ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ضروری تھی۔