انڈیا: جب عدالتی کارروائی رات بھر چلتی رہی

سرکاری وکیل سنجنا دتہ

،تصویر کا ذریعہABDUL ASLAM

،تصویر کا کیپشنسرکاری وکیل کے مطابق جب تک عدالتی کارروائی مکمل نہیں ہوئی اس وقت تک عدالت کا پورا عملہ موجود رہا

انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ کی ایک عدالت میں جسم فرشی سے متعلق ایک خاص مقدمے کی سماعت اور عدالتی کارروائی رات بھر جاری رہی اور صبح کے وقت فیصلہ سنایا گيا۔

یہ کیس نابالغ قبائلی لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کرنے اور ان کا جنسی استحصال کرنے سے متعلق تھا۔

فیصلہ سنانے کے بعد ملزمان کو جیل بھیجنے کی کارروائی شروع ہوئی جو صبح تک چلی۔ سماعت شروع ہونے کے بعد سے جج سمیت عدالت کے سبھی ملازم اور پولیس کے اہلکار عدالت میں ہی موجود رہے۔

اس کیس کی سرکاری وکیل رنجنا دتّہ کے مطابق 'ضلع کوربا کی خصوصی عدالت نے اس معاملے میں 212 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا ہے۔ اس میں سات ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ ایک کو 14 سال اور ایک کو دس سال کی سزا سنائی گئی ہے۔'

ملزمان

،تصویر کا ذریعہABDUL ASLAM

،تصویر کا کیپشنعدالت نے جن افراد کو سزا سنائی ہے اس میں تین خواتین بھی شامل ہیں

عدالت نے جن افراد کو سزا سنائی ہے اس میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق کوربا ضلع کے ارگا علاقے میں نوجوان 2015 میں نابالغ قبائلی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور ان سے جسم فروشی کروانے والے 11 افراد کا ایک گروہ پکڑا گیا تھا۔

یہ گروہ قبائلی لڑکیوں کو کام دلانے کے بہانے گاؤں سے باہر لے جاتا تھا اور ان سے جسم فروشی کرواتا تھا۔ 11 لوگوں کے اس گروہ میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔

خصوصی عدالت نے اس کیس کے دو ملزمان کو رہا کر دیا جبکہ تین خواتین سمیت نو افراد کو قصوروار بتاتے ہوئے انھیں سزا سنائی گئي۔

ریاست چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ کے وکیل ورون شرما نے بی بی سی کو بتایا: 'عدالت نے جس طرح کا سخت فیصلہ سنایا ہے وہ دوسرے لوگوں کے لیے بڑی مثال ثابت ہو سکتا ہے۔'