کشمیر: احتجاج اور ہڑتالوں سے معیشت تباہ ہوچکی ہے

- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دلی
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سری نگر کی ڈل جھیل کے کنارے ’سی سیون‘ ریستوران شہر کا ایک مقبول مقام ہے۔ یہ فیملی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں بھی کافی مقبول ہے۔
معمول کے دنوں میں اکثر یہاں جگہ نہیں ملتی۔ لیکن ان دنوں یہ خالی پڑا ہے۔ گاہک کم ہونے کے سبب بیشتر ڈشز بھی تیار نہیں کی جاتیں ہیں۔ پانچ مہینے بند رہنے کے بعد پورا شہر بوجھل سا محسوس ہوتا ہے۔
گذشتہ جولائی میں پولیس کے ساتھ تصادم میں شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پوری وادی میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران 100 سے زیادہ نوجوان مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

ریاست میں کئی مہینے تک بیشتر اوقات کرفیو نافذ رہا اور باقی وقت علیحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال رہی۔ پانج مہینے کے ’شٹ ڈاؤن‘ کے بعد زندگی دوبارہ شروع ہوئی ہے لیکن پانچ مہینے کی ہڑتال اور شورش سے ریاست کا اقتصادی نظام ہر سطح پر منتشر ہے۔
اس برس ریاست کی سرحِ نمو کا تخمینہ ایک لاکھ 30ہزار کروڑ روپے کا لگایا گیا تھا۔ جولائی سے نومبر تک ہڑتالوں اور کرفیو کے جو پانج مہینے تھے وہ اقتصادی طور پر سب سے اہم وقت ہوتا ہے۔
ٹریڈررز ایسوسی ایشن، ٹورزم ایسوسی ایشن اور باقی اداروں کا کہنا ہے کہ انھیں روزانہ ایک سو دس کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس لحاظ سے معیشت کو فوری طور پر 15 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

اقتصادی امور کے تجزیہ کار اعجاز ایوب کہتے ہیں کہ ’یہ نقصان آگے بھی نقصان پہنچائے گا۔ ابھی بزنس کا ماحول بہت کمزور ہے۔ یہ صرف 15 ہزار کروڑ روپے پر نہیں رکے گا۔ میرا خیال ہے کہ ریاست کی معیشت کا 30 فیصد تک اس میں جائے گا یعنی معیشت کو 40 ہزار کروڑ روپے تک کا خسارہ ہو گا۔ اگر حالات معمول پر آگئے تو آئندہ مئی سے پہلے معیشت معمول پرنہیں آسکے گی۔‘
کشمیر میں لوگ عموماً کسی ناگہانی سیاسی صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ لیکن پانچ مہینے کا وقفہ ایک بڑا وقفہ ہوتا ہے۔ اس مدت میں ہر شے رکی رہی۔ آمدنی ختم ہو گئی۔ بہت سے لوگ غربت میں چلے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیر کے سرمایہ کار نامساعد حالات سے پریشان ہیں۔ وہ اب حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت سیاسی حالات سے ہونے والے اقتصادی نقصانات کے ازالے کے لیے ان کے سرمایے کو تحفظ فراہم کرے۔ ریاست کے ایک سرکردہ صنعت کار شیخ عاشق احمد کہتے ہیں: ’دلی میں ہمارے جو دوست ہیں جنھوں نے ہمارے ساتھ بزنس شروع کیا ان کا ٹرن اوور 200 کروڑ روپے پہنچ گیا جبکہ ہم 20 کروڑ سے پانچ چھ کروڑ روپے پر نیچے آگئے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا ایک مستقل حل تلاش کیا جائے۔ ورنہ یہ صورتحال آتی ہی رہے گی۔

1989 میں مسلح تحریک کے شروع ہونے کے بعد سے کشمیر کی سیاسی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے۔ یہاں کے حالات سے اب بہت سے سرمایہ کار مایوس ہونے لگے ہیں۔
بزنس مین رؤف احمد ترمبو کہتے ہیں کہ ’میں 27 برس سے بزنس مین ہوں لیکن میں سمبجھتا ہوں کہ یہ 27 برس پوری طرح ضائع گئے ہیں۔ میں انہیں اپنی زندگی کا حصہ ہی نہیں سمبھتا۔‘
پانچ مہینے بعد کشمیر میں زندگی رفتہ رفتہ بحال ہو رہی ہے۔ مایوسی اور امید کے درمیان کشمیر کے صنعت کار اور تاجر انجانے اندیشوں میں محصور ہیں۔

اعجاز ایوب جیسے اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کشمیر میں امن کے قیام سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر ہوں گے اور اس سے کشمیر کے لیے نئے اقتصادی امکانات پیدا ہوں گے۔ لیکن پہلے اس کے لیے کشمیر کا ایک مستقل سیاسی حل نکالنا ہوگا۔
کشمیر میں روزمرہ کی زندگی رفتہ رفتہ واپس آ رہی ہے۔ اقتصادی سرگرمیاں بحال ہونے لگی ہیں۔ لیکن کشمیر کی معیشت برسوں سے شورش اور بے یقینیوں کی گرفت میں ہے۔







