جموں میں انڈین فوجی کیمپ پر حملہ، دو افسران سمیت سات ہلاک

جموں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکرنل مہتا نے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی خطے جموں میں انڈین فوج کی شمالی کمان کے ایک کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں دو افسران سمیت سات فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

انڈین فوج کے ترجمان کرنل منیش مہتا نے کہا کہ'فوجی کیمپ میں كومبنگ آپریشن جاری ہے جو صرف رات کے وقت رکا ہے۔ پورے علاقے کا محاصرہ کیا گیا ہے اور بدھ کو بھی كومبنگ آپریشن جاری رہے گا۔

یہ گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارتی فوج کے کسی ٹھکانے پر اپنی نوعیت کا یہ تیسرا بڑا حملہ ہے۔

انڈین فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق منگل کی صبح پولیس کی وردیوں میں ملبوس مسلح حملہ آوروں نے نگروٹہ میں کور ہیڈکوارٹر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات فوجی یونٹ پر دھاوا بولا۔

حملہ آور دستی بم پھینکتے ہوئے اور فائرنگ کرتے ہوئے آفیسرز میس میں داخل ہوگئے۔

بیان کے مطابق ابتدائی جھڑپ میں ایک فوجی افسر اور تین اہلکار ہلاک ہوئے اور حملہ آور اس دوران دو ایسی عمارتوں میں داخل ہونے میں کامیاب رہے ہیں جہاں فوجی اہلکار اور ان کے اہلِ خانہ موجود تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے حملہ آوروں نے وہاں موجود 12 فوجیوں، دو خواتین اور دو بچوں کو یرغمال بنا لیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا تاہم بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن میں مزید ایک فوجی افسر اور دو اہلکار مارے گئے۔

نگروٹہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن میں مزید ایک فوجی افسر اور دو اہلکار مارے گئے

انڈین فوج کے مطابق مقابلے میں تینوں حملہ آور بھی مارے گئے اور اب علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔

خیال رہے کہ نگروٹہ میں ہی بھارتی فوج کی سب سے زیادہ سرگرم شمالی کمان کا ہیڈکوارٹر قائم ہے۔

یہ حملہ 166 میڈیم ریجمنٹ آرٹلری کے کیمپ پر کیا گیا۔ اسی یونٹ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر مبینہ دراندازی کے خلاف منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے۔

اس حملے کے بعد نگروٹہ میں فوجی تنصیبات کے قریب گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی اور انتظامیہ نے سکولوں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔

اس دوران انڈین سرحدی حفاظتی فورس یا بی ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جموں میں ہی سامبا ضلع کے رام نگر اور چملی یال سیکٹر کے قریب تین مسلح دراندازوں کو ایک تصادم کے دوران ہلاک کیا۔

تصادم میں ایک بی ایس ایف جوان زخمی ہوگیا ہے۔

جموں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیہ حملہ جموں کے نگروٹہ قصبے میں ہوا ہے

واضح رہے ستمبر میں شمالی کشمیر کے اُوڑی قصبہ میں فوجی کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدی اور سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

اس حملے کے دس روز بعد انڈین فوج نے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے اندر سرجکل سٹرائیکس کرکے مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ تاہم اس دعوے کے بعد لائن آف کنٹرول اور دوسری سرحدوں پر دونوں ملکوں کے درمیان تصادموں میں شدت آ گئی۔

انڈین فوج کا کہنا ہے کہ سرجکل سٹرائیکس کے بعد سے اب تک پاکستان نے سو سے زائد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس میں 17فوجیوں سمیت 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔