وزیرِ اعلیٰ کے 50 کروڑ کے گھر پر غصے کی لہر

،تصویر کا ذریعہK CHANDRASHEKHAR RAO
جنوبی انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے وزیرِ اعلیٰ کے 50 کروڑ روپے مالیت کے نئے محل نما گھر نے لوگوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
حیدرآباد شہر کے پوش علاقے میں واقع یہ عمارت نو ہزار مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔
اس گھر میں بلٹ پروف باتھ روم ہیں، ایک آڈیٹوریم ہے جس میں ڈھائی سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور ایک میٹنگ ہال ہے جس میں پانچ سو لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔
سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ اس گھر کے بلٹ پروف باتھ روموں کو بنایا جا رہا ہے۔
اس گھر کو وزیرِ اعلیٰ کے روحانی گرو چِنا جیئر سوامی نے آشیرواد دی۔ وزیرِ اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ جمعرات کو یہاں منتقل ہوئے۔
سوامی نے وزیرِ اعلیٰ کی خصوصی کرسی پر بیٹھ کر اسے بھی آشیرواد دی۔
گھر کا نام پراگاتھی بھون ہے اور اسے واستو کے ماہرین کے صلاح و مشورے سے تعمیر کیا گیا ہے۔
راؤ ہندو مت کے تعمیرات کے بارے میں قدیم رواج واستو پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پہلے خبریں آئی تھیں کہ انھوں نے ریاستی سیکریٹیریٹ کمپلکس کو گرانے کی کوشش کی تھی کیوں کہ ان کے خیال میں اس کا واستو ریاست کے لیے سازگار نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیاسی تجزیہ کار اور مصنف کنگسک ناگ نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ اس گھر نے راؤ کی 'جاگیردارانہ' ذہنیت اجاگر کر دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہMOHHAMED ALEEM
انھوں نے کہا: 'یہ پرانے وقتوں کی طرح ہے جب جاگیردار ایک ایسا قلعہ بناتا تھا جو اس کا دفتر بھی ہوا کرتا تھا۔ تاکہ اس کی رعایا کہے، واہ، کیا عالیشان محل ہے۔'
انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کا بہانہ بنا کر اس قدر بڑا مکان تعمیر کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔
پچھلے ہفتے ایک اور انڈین سیاست دان کی بیٹی کی پرشکوہ شادی پر بھی کڑی تنقید کی گئی تھی۔








