BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2009, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میثاق جمہوریت مقدس ہے: ناہید خان

جلسے سے ناہید خان اور ان کے شوہر سینیٹر صفدر عباسی نے خطاب کیا

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء ناہید خان نے کہا ہے کہ اگر وکلاء کی لانگ مارچ سے قبل صدر آصف زردرای وکلاء رہنماؤں کے وفد سے بات چیت کریں تو ججوں کی بحالی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھ کر انہیں نہیں لگتا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری یا کوئی دوسرا جج ایسے حالات پیدا کریں گے کہ ملک پر فوج مسلط ہوجائے۔

ناہید خان پیر کی شب اپنے شوہر سینیٹر صفدر عباسی کے ہمراہ لاڑکانہ کے ایک کاروباری مرکز ریشم گلی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہی تھیں۔

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی سیاسی سیکریٹری ناہید خان نے کہا کہ میثاق جمہوریت ان کے لیے مقدس ہے کیونکہ اس پر ان کی قائد بینظیر بھٹو کے دستخط ہیں ۔ انہوں نے اپنی حکمراں جماعت سے مطالبہ کیا کہ میثاق جمہوریت پر عمل در آمد کیا جائے ۔

انہوں نے وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ نے نظیر بھٹو کا شہر ہے مگر وہاں بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔عام لوگ اور پارٹی کارکنان اپنے آپ کو بے سہارا سمجھ رہے ہیں ۔

ناہید خان نے کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سےنہیں بیٹھیں گی۔

صفدر عباسی نےبھی پارٹی قیادت پر تنقید کی

سینیٹر ڈاکٹر صفدر عباسی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ججوں کی عدم بحالی اور وکلاء تحریک کی وجہ سے ملک کے اندر ایک سیاسی عدم استحکام کی کییفت ہے جس کی وجہ سے نہ تو ملک کی معیشت بہتر ہورہی ہےاور نہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی مل رہی ہے۔

سینیٹر عباسی کےمطابق اگر ججوں کوبحال کرکے سیاسی عدم استحکام ختم کیا جائے تو تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے ۔

پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ شہر میں ناہید خان اور صفدر عباسی کا حکومت کی تشکیل کے بعد کسی عوامی اجتماع سے پہلا خطاب تھا ۔اجلاس میں سندھ حکومت کے کسی وزیر اور مشیر نے شرکت نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی سیاسی وراثت کو سنبھالنا کسی ایک فرد کے بس کی بات نہیں تمام کارکنان اور ہمدردوں کو اپنے گھروں سے نکلنا پڑے گا۔ صفدر عباسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی بینظیر بھٹو کی امانت ہے وہ ا س میں خیانت کریں گے نہ کسی دوسرے کو کرنے دیں گے ۔

صفدر عباسی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کو تیرہ مہینے گزر چکے ہیں اور ان کی جماعت کو اقتدار میں دس مہینے ہوگئے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے یہ بہت بڑا وقت ہے۔

صفدر کے بقول پاکستان کے عوام بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ اگر تحقیقات کا فوراً آغاز نہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی کے خلاف عوام میں غصہ ہوگا اور جماعت کے اندر دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔

ناہید خان کا کہنا تھا کہ حکومت میں شامل وزراء بھی بے بس نظر آ رہے ہیں ۔ان سے اگر کوئی کارکن سوال کرتا ہے تو ان کاچہرہ سپاٹ بن جاتا ہے ۔کارکنان کی حکومت میں سننے والا کوئی نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ وہ بینظیر کی جماعت کو خراب نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان کی جگہ اپنے عزیز واقارب کی سنی جا رہی ہے ۔ناہید خان کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں دیر کی وجہ سے ان کےصبر کا پیمانہ لبریز ہونے کو ہے۔

اسی بارے میں
گولی نہیں لگی: برطانوی پولیس
08 February, 2008 | پاکستان
نوڈیرو کے بدلتے مناظر
21 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد