BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ناہید خان سے ملاقات کیوں کی‘

ناہید خان
ناہید خان سے ملاقات اگر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی تو پارٹی ہے اعلان کیوں نہیں کرتی: ساجدہ میر
پیپلز پارٹی کی رکن پنجاب اسمبلی ساجدہ میر نے قائمہ کمیٹی کی سربراہی سے استعفی دیدیا ہےان کے بقول انہیں پارٹی قیادت نے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

پیپلز پارٹی کے سنیٹرصفدر عباسی نےان کے جبری استعفے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی قیادت کی پالیسیاں کارکنوں اور عوام کو اس سے دور کر رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ساجدہ میر ایسے لوگوں سے ملتی رہی ہیں جو پارٹی قیادت کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔‘

پیپلزپارٹی لاہور شعبہ خواتین کی صدر ساجدہ میر نے چند روز پہلے ایک ایسی تقریب میں شرکت کی تھی جس میں مرحومہ بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان بھی موجود تھیں۔

ساجدہ میر کے بقول انہیں بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ناہید خان کے ساتھ ان کی تصاویر اخبارات میں دیکھ کر برا منایا ہے۔

ناہید خان نے اس تقریب میں کہا تھا ’پارٹی کے سر تو ایوانوں میں پہنچ گئے ہیں لیکن دھڑ گلیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ وزیراور مشیر دفتروں سے نہیں نکلتے اور کارکن دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔‘

آصف زرداری برہم
 مجھے بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ناہید خان کے ساتھ ان کی تصاویر اخبارات میں دیکھ کر برا منایا ہے۔
ساجدہ میر

انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بے نظیر بھٹو جو میثاق جمہوریت چھوڑ گئی ہیں اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

ساجدہ میر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کی تقریب تھی جس میں شرکت کو ڈسپلن کی خلاف ورزی کہا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سنیئر وزیر راجہ ریاض نے باقاعدہ خط لکھ کر انہیں مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی اور پارٹی ڈسپلن کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفٰی سپیکر پنجاب اسمبلی کو دیدیا ہے۔

ناہید خان اور ان کے شوہر صفدر عباسی کچھ عرصے سے پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ سینٹیر صفدر عباسی نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ساجدہ میر چودہ برس کی تھیں جب پہلی بار انہیں پارٹی کی خاطر جیل جانا پڑا۔ وہ صرف لاہور کی کارکن نہیں ہے اسے پورے ملک میں پارٹی کارکنوں کی شناخت سمجھا جاتا ہے اس کے ساتھ یہ سلوک افسوسناک ہے۔‘

ناہید خان کے شوہر صفدر عباسی نے کہا کہ ’کارکنوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اور عوام میں خلیج بڑھ رہی ہے اور پارٹی میں ان کے ساتھی اس پر احتجاج کر رہے ہیں۔‘

قاتلوں کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے؟
آصف زرداری کہتے ہیں کہ انہیں بے نظیر کے قاتلوں کا علم ہے تو وہ انہیں بے نقاب کیوں نہیں کرتے۔
صفدر عباسی

پاکستان کے بعض اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہورہی ہیں جن سے تاثر ملتاہے کہ پیپلزپارٹی کے اندر آصف زرداری مخالف دھڑے بندی ہو رہی ہے۔ صفدر عباسی نے ایسے کسی بھی تاثر کی تردید کی اور کہا کہ وہ نہ تو کوئی نئی پارٹی بنا رہے ہیں اور نہ ہی کسی دھڑے بندی میں شریک ہیں۔ البتہ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی حالیہ پالیسیوں کے خلاف پہلے صرف وہ اور ان کی اہلیہ بات کر رہی تھیں اب ایسے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

صفدر عباسی نے کہا کہ جب آصف زرداری کہتے ہیں کہ انہیں بے نظیر کے قاتلوں کا علم ہے تو وہ انہیں بے نقاب کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ’ اگر اقوام متحدہ ایک برس گزر جانے کےبعد بھی تفتیش کا آغاز نہیں کرسکی تو پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ کام خود کرلینا چاہیے۔‘

ادھر پیپلز پارٹی پنجاب کے ترجمان زکریا بٹ نے کہا کہ’ ساجدہ میر اگر پیپلز پارٹی کی کارکن ہیں تو انہیں پارٹی ڈسپلن کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔‘

پارٹی ڈسپلن کیا ہے
 بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان سے ملنا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے توپھر پارٹی کو اس کا باقاعدہ اعلان کردینا چاہیے تاکہ کوئی دوسرا کارکن غلط فہمی میں نہ مارا جائے۔‘
ساجدہ میر
ساجدہ میر نے کہا کہ ’بے نظیر بھٹو کی قریبی ساتھی ناہید خان سے ملنا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے توپھر پارٹی کو اس کا باقاعدہ اعلان کردینا چاہیے تاکہ کوئی دوسرا کارکن غلط فہمی میں نہ مارا جائے۔‘

ساجدہ میر نے کہا کہ’انہوں نے بائیس سال پارٹی کی خاطر جدوجہد کی، سڑکوں پر مار کھائی ا ور انہیں زندگی میں پہلی بار ایک ایسا سرکاری عہدہ ملا جس میں پندرہ ہزار روپے ماہوار اور گاڑی ملنا تھی لیکن یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے انہیں استعفی دینے کا حکم مل گیا۔

ساجدہ میر نے کہا کہ ’انہیں عہدوں کا لالچ ہے نہ اس کی فکر ہے وہ پارٹی کارکن ہیں اور یہی ان کے لیے سب سے بڑا عہدہ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ پارٹی نے جوسلوک کیا ہے اس کے بعد کوئی اپنی بیٹی کو ساجدہ میر نہیں بناناچاہے گا۔‘

ساجدہ میر نے کہا کہ وہ پارٹی کی مشکل وقت کی عہدیدار ہیں۔ البتہ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب اچھے وقت میں لاہور کی پارٹی کے شعبہ خواتین کی صدرات کے لیے ان کی بجائے کسی دوسری خاتون کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں
پیپلزپارٹی ملک گیر جماعت
19 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد