BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے این پی عہدیدار مستعفی

اس اخبار میں اس طرح کے اشتہارات پہلے بھی شائع ہوتے رہے ہیں
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں سیکولر قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے تمام عہدیداروں نے اپنی ہی پارٹی کی صوبائی حکومت پر مبینہ طور پر’غیر شرعی‘ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔

عوامی نینشل پارٹی مینگورہ سٹی کی کابینہ کے عہدیداروں نے ایک مقامی اخبار’ شمال‘ کے بدھ کے شمارے میں ایک اشتہار شائع کرایا ہے جس میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت مبینہ طور پر’غیر شرعی‘ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

اشتہار میں اے این پی کے عہدیداروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ’صوبائی حکومت کی ناقص اور عوام دشمن پالیسیوں اور سوات آپریشن کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں لہذا مستقبل میں ہمارا عوامی نینشل پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا نیز ہم موجودہ صوبائی حکومت کی ’غیر شرعی‘ سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہیں۔

اشتہار میں جن عہدیداروں کا نام دیا گیا ہے ان میں صدر ملک سردار علی، جنرل سیکریٹری حاجی رفیق احمد، سنیئر نائب صدر ہمایوں خان اور اس ترتیب سے دیگر نو عہدیدار شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ضلع سوات میں حکمران عوامی نینشل پارٹی کے فعال عہدیدار اور کارکن خصوصی طور پر مبینہ طور پر طالبان کے نشانہ پر ہیں۔ اب تک کئی افراد کو قتل بھی کیا گیا ہے جبکہ معروف قوم پرست رہنماء افضل خان لالا کے گھر پر پانچ مرتبہ حملہ کیا گیا ہے تاہم انہوں نے علاقہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ عوامی نینشل پارٹی کے زیادہ تر ضلعی عہدیدار اور سرگرم کارکنوں نے علاقہ چھوڑ دیا ہے جبکہ کچھ عرصے قبل کئی افراد نے اشتہارات کے ذریعے پارٹی سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔

عوامی نینشل پارٹی کو اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں سوات میں قومی اسمبلی کی ایک نشست کے علاوہ باقی تمام یعنی صوبائی اسمبلی کی سات اورقومی اسمبلی کی ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ مگر طالبان اور صوبائی حکومت کے درمیان امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد کسی بھی رکن قومی و صوبائی اسمبلی نے سوات کا دورہ نہیں کیا ہے۔اے این پی کا کہنا ہے کہ ان کے اب تک سو کے قریب ساتھیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات تشدد کی دلدل میں
19 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد