BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 15:35 GMT 20:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عوامی نیشنل پارٹی سے لاتعلقی

اے این پی کے کارکنوں اور رہناؤں کی طرف سے اس طرح کے اشتہارات معمول بن گئے ہیں۔
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں جاری شدت پسندی نے پاکستان کی اس سیاسی روایت کو بھی اب ایک حد تک تبدیل کردیا ہےکہ اخبارات میں برسرِ اقتدار پارٹی میں شمولیتوں کی بجائے استعفی کی خبریں اور اشتہارات زیادہ پڑھنے کو ملتی ہیں۔

اسکی ایک جھلک آجکل ضلع سوات کے مقامی اخبارات میں عوامی نینشل پارٹی کے بعض کارکنوں کی جانب سے’ اشتہارات کے ذریعے پارٹی سے مستعفی ہونے کی صورت میں نظر آرہی ہے۔

اس سے قبل سوات میں طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے حکام کے بقول تقریباً تین سو پولیس اہلکاروں نے نوکریاں چھوڑ دی تھیں جن میں سے بعض نے مقامی اخبارات میں اسی نوعیت کے اشتہارت شائع کرائے تھے۔

گزشتہ برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں کلین سویپ کرنے والی صوبے کی قوم پرست حکمران جماعت عوامی نینشل پارٹی مسلح طالبان کی جانب سے مسلسل ’ٹارگٹ’ کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔

سوات میں ایک مقامی اخبار’ شمال’ کے مدیر غلام فاروق کا کہنا ہے کہ اشتہارات کے ذریعے عوامی نیشنل پارٹی سے مستعفی ہونے کا سلسلہ گزشتہ کچھ دنوں سے شروع ہوا ہے۔انکے بقول اشتہاردینے والوں میں زکوتہ کمیٹی کے بعض ایسے اراکین بھی شامل ہیں جنکا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

ایسے ہی اشتہار شائع کرنے والے مقامی اخبار ’ آزادی’ کے ایڈیٹر ممتاز صادق کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سوات میں عوامی نینشل پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے اور پارٹی کے بعض اراکین مسلح طالبان کی غیض و غضب سے بچنے کے لیے اس قسم کے اشتہارات دینے پر مجبور ہوگئے ہیں

 صوبہ سرحد میں جمیعت علماء اسلام(ف) اور جماعت اسلامی کی صوبائی حکومت کی درخواست پر ہی فوج سوات بھیجی گئی تھی لیکن ان دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو ابھی تک حملوں کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے

اس قسم کے ایک اشتہار میں لوکل زکوتہ کمیٹی کےچیئرمین محبوب علی کا کہنا ہے کہ’ میں عوامی نیشنل پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں، آئندہ میرا یا میرے خاندان کے کسی فرد کا عوامی نینشل پارٹی سے کوئی تعلق یا رابطہ نہیں ہوگا۔پارٹی کی طرف سے لوکل زکوتہ کمیٹی کےچیئرمین شپ سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔،

عوامی نیشنل پارٹی نے گزشتہ برس کے عام انتخابات میں ضلع سوات کے صوبائی اسمبلی کے سبھی سات اور قومی اسمبلی کی دو میں سے ایک نشست جیت لی تھی۔اقتدار میں آنے کے بعد اے این پی نے فوجی آپریشن کو معطل کرکے طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا جو کچھ عرصے بعد ہی ٹوٹ گیا۔

اس کے بعد طالبان نے پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے رکن شیر شاہ کے گھر پر حملہ کرکے ان کے خاندان کے آٹھ افراد کو قتل کردیا۔اسکے علاوہ صوبائی وزیر واجد علی خان کےبھائی، بزرگ سیاستدان افضل خِان لالا کے دو بھتیجوں، تحصیل کبل کےجنرل سیکریٹری ریاض احمد، کبل کے جوائنٹ سکریٹری، تحصیل مٹہ کے مقامی رہنماء محمد آمین ،جمعہ ہی کو ایک اور مقامی رہنماء ملک گل دیدار خان اور کئی دیگر سرگرم عہدیداروں اور کارکنوں کو قتل کردیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عوامی نیشل پارٹی کے اہم عہدیدار اور سرگرم کارکن یا تو علاقے چھوڑ نے پر مجبور ہوئے ہیں یا پھر انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔سوات میں فضاء گٹ کے مقام پر پارٹی کا دفتر بند پڑا ہے۔علاقے سے منتخب ہونے والے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین انتخابات جیتنے کے بعد خراب ہوتی صورتحال کی وجہ سےسوات نہیں جاسکے ہیں۔

عوامی نینشل پارٹی کے رہنماء اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ سوات میں انکی جماعت کو چیلنج کا سامنا ہے مگر انکے بقول پارٹی کی مقامی قیادت نے جنگی حالت میں اپنی تنظیمی سرگرمیوں کا طریقہ کار بدل دیا ہے۔

انکے بقول’ ہماری پارٹی کے اہم عہدیداروں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے اراکین منظم ہیں۔ اصرف وہی لوگ اشتہارات کے ذریعے استعفی پیش کررہے ہیں جو ابن الوقت ہیں اور مصیبت کے وقت پارٹی ک ساتھ نہیں دے سکتے۔سوات میں صرف ہماری پارٹی ہی نہیں معاشرے کا ہرطبقہ چیلنج کا سامنا کررہا ہے۔ سڑکیں بند ہیں اور سکولوں کو جلایا جارہا ہے۔،

اگر چہ عوامی نینشل پارٹی اس وقت طالبان کے نشانہ پر ہے مگر اسکے علاوہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قائداعظم اور سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کی جماعت کے بعض کارکنوں کو بھی قتل کیا گیا ہے۔

صوبہ سرحد میں جمیعت علماء اسلام(ف) اور جماعت اسلامی کی صوبائی حکومت کی درخواست پر ہی فوج سوات بھیجی گئی تھی لیکن ان دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو ابھی تک حملوں کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے اور وہ اب بھی سوات کے اندر کھل کر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد