اے این پی، پیپلز پارٹی میں اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق وفاق میں حکمران اتحاد کی دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ معزول ججوں کی بحالی کے معاملے پر اختلافات کی وجہ سے حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے پہلے ہی وفاقی وزارتوں سے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکز میں اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات اس وقت پیدا ہو ئے جب مرکز میں اے این پی کی وزارتِ سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے وزیر کو اعتماد میں لیے بغیر پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک اہم عہدے پر تقرری کی گئی۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے وفاق میں ترجمان زاہد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فریقین میں طے پایا ہے کہ بات چیت سے پہلے اختلافات کی بنیادی وجہ کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی اور اے این پی کا رابطہ ہوا ہے جس میں طے پایا ہے کہ پہلے سے موجود ایک کمیٹی کے ذریعے اختلافات کو حل کیا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا۔ زاہد خان نے بتایا کہ چار جماعتی حکمران اتحاد نے پہلے سے ہی ایک کمیٹی بنا رکھی ہے جس میں چاروں جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں اور یہ مرکز میں اپنی جماعتوں کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں موجود اُن کی جماعت کے نمائندوں نے شکایت کی تھی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اُن کو اعتماد میں لیے بغیر بعض اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ زاہد خان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں ابھی عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت شامل نہیں ہے بلکہ پہلے سے قائم کمیٹی کے ذریعے پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملہ حل کیا جائے گا تاہم انہوں نے کمیٹی میں موجود دونوں جاعتوں کے نمائندوں کا نام نہیں بتایا ۔ ادھر پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں لیکن وہ اتنے اہم نہیں کہ اس وجہ سے اے این پی مرکزی حکومت سے علیحدہ ہو جائے ۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں نے اپنا اپنا موقف بیان کر دیا ہے ۔تاہم انہوں نے مزید کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شروع کیے گئے حالیہ آپریشن پر بھی صوبہ سرحد کی حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے دبے الفاظ میں تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپریشن سے پہلے ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جبکہ وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ خبیر ایجنسی میں آپریشن کو صوبائی حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے ۔ | اسی بارے میں شدت پسندی، اے این پی کا بڑا چیلنج23 February, 2008 | پاکستان فوجی کارروائی سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی03 July, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم، اے این پی مذاکرات31 May, 2008 | پاکستان ’مذاکرات کی حکمتِ عملی دو دھاری تلوار‘25 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||