BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 14:29 GMT 19:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی معلومات پر جلدرپورٹ کامطالبہ‘

رحمان ملک
’ممبئی واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تففیشی ٹیم تشکیل دی جائے‘
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے ممبئی حملوں کے متعلق دی جانے والی معلومات پر تحقیقات کرنے والے کمیشن سے کہا گیا ہے کہ دس یوم میں اس بار ےمیں ابتدائی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کریں۔

سنیچر کو وزارت داخلہ میں ایک اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے دی جانے والی معلوما ت سے اس معاملے میں تفتیش کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور بھارت کی طرف سے ملنے والی ان معلومات پر ہونے والی تفتیش میں کسی ملک سے کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ملنے والی معلومات کے علاوہ دیگر معلومات بھی اکھٹی کر رہے ہیں۔

کڑی دوسرے ملک سے
 بھارت کی طرف سے ملنے والی ان معلوما ت کی روشنی میں ایسا دیکھائی دیتا ہے کہ ممبئی واقعہ میں ملوث افراد کی جڑیں کسی دوسرے ملک سے جا کر ملتی ہیں۔
رحمان ملک
رحمان ملک نے کہا کہ ان معلومات پر کام کرنے والی ٹیم ایسے شواہد اکھٹے کرنے پر کام کرے گی جو عدالت میں قابل قبول ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ملنے والی ان معلوما ت کی روشنی میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ممبئی واقعہ میں ملوث افراد کی جڑیں کسی دوسرے ملک سے جا کر ملتی ہیں۔

مشیر داخلہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کالعدم تنظیم کے 124 ارکان کو خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور اگر ان میں سے کچھ افراد کے خلاف کوئی ثبوت ملے تو اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی جبکہ بیگناہ افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے کسی شخص کو بھی بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا اور ان افراد کے خلاف پاکستانی قوانین کے مطابق ہی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی ایف آئی اے کے قانون کے تحت ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممبئی واقعہ میں ملوث افراد کے حوالے سے 42 دنوں میں معلومات اکھٹی کی ہیں لہذا اُنہیں اُمید ہے کہ بھارت سمیت عالمی برادری ان معلوما ت پر تحقیقات کے لیے پاکستان کو کچھ وقت دے گی۔

اُنہوں نے حکومت کی اس پیشکش کو دوبارہ دہرایا کہ ممبئی واقعہ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تففیشی ٹیم تشکیل دی جائے۔ واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں ایک تین رکنی تفیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو کہ بھارت کی طرف سے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کو دی جانے والی معلومات پر تحقیقات کر رہی ہے۔

بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں صدر نے واضح کیا کہ اگر کوئی پاکستانی فرد یا گروہ ممبئی حملوں میں ملوث پایا گیا تو اُس کے خلاف ملکی قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی بھارت حوالے نہیں کیا جائے گا جبکہ بھارتی قیادت اس واقعہ میں ملوث افراد کو بھارت کے حوالے کرنے کے متعلق پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد