BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2009, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: ڈی ایس پی سمیت چار ہلاک

کوئٹہ میں پولیس پر فائرنگ کے بعد احتجاج
کوئٹہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین احتجاج کر رہے ہیں
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ میں ڈی ایس پی سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس واقعہ میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ وزیر خان ناصر کے مطابق بدھ کی صبح گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج کے سامنے نامعلوم مسلح افراد نے ڈی ایس پی حسن علی کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کردی جب وہ دیگر اہلکاروں کے ہمراہ سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر جارہے تھے۔

فائرنگ کے نتیجے میں تین اہلکار محمد تقی، نصر اللہ اور محمد مہدی موقع پر ہی ہلاک جبکہ ڈی ایس پی سمیت دو اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈی ایس پی حسن علی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ جبکہ دوسرے زخمی صبغت اللہ کو بی ایم سی سے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کوئٹہ کو ہدایت کی کہ وہ 48گھنٹوں کے اندر اندر ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنائیں۔ ذرائع کے مطابق واقعہ میں ہلاک ہونے والوں میں ڈی ایس پی اور ایک کانسٹیبل کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا۔

واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی۔ فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے اہلکاروں کے ورثاء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بی ایم سی کے سامنے بروری روڈ بلاک کردیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ محرم الحرام کے دوران کوئٹہ اورسبی میں نامعلوم افراد کی جانب سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن اب تک کسی بھی شدت پسند مذہبی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا خیال ہے کہ ممکن ہے ان واقعات میں کالعدم مذہبی تنظیم سپاہ صحابہ یا لشکر جھنگوی ملوث ہو۔

صوبائی حکومت نے پہلے سے ہی ان تنظیموں کے سرکردہ راہنماؤں کی گرفتاری پر لاکھوں روپے کا انعام رکھا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے لشکرجھنگوی کے دو اہم راہنماء انسداد دہشت گردی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد شیعہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان افراد کے جیل سے فرار ہونے کے بعد محرم الحرام کے دوران فرقہ وارانہ دہشت گردی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

کوئٹہ میں ہلاکتیں
سات فوجیوں سمیت نو ہلاک
اخباراتدھماکہ شہ سرخی میں
بلوچستان کے اخبارات میں دھماکے کی کوریج
اسی بارے میں
جعفر ایکسپریس پر فائرنگ
09 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد