BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھوٹے جرائم، ضلعی افسران مجاز

نئی تبدیلیوں میں دیواروں پر عبارت کی روک تھام بھی شامل ہے۔
سندھ میں ہوائی فائرنگ، وال چاکنگ اور ریتی بجری کے غیر قانونی حصول سمیت گیارہ چھوٹے جرائم کی روک تھام کے اختیارات ضلعی ریوینیو افسران کے حوالے کردیے گئے ہیں۔

سابق حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام میں یہ اختیارات جوڈیشل میجسٹریٹس کے حوالے کیے گئے تھے ۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے وزرات قانون کے ذریعے چھوٹے جرائم کی روک تھام کے لیئے نائب ضلعی افسران ( ڈی ڈی او) ریوینیو کو میجسٹریٹی اختیارات دینے کی درخواست کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اس درخواست کو منظور کرلیا ہے اور محکمہ داخلہ نے اس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔

اس کے بعد ضلعی افسران کو بھاری گاڑیوں کے بڑے شہروں میں داخلے، ریتی بجری کے غیر قانونی حصول، امتحانات کے مراکز میں غیر متعلقہ افراد پر پابندی، فٹ پاتھ پر سائن بورڈ لگانے، وال چاکنگ، ڈبل سواری، غیر قانونی واٹر پمپ سٹیشن، ہوائی فائرنگ اور پٹاخے کی فروخت کی روک تھام کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

اب وہ ان جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دینے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

آخر یہ اختیارات ضلعی افسران کو دینے کی ضرورت پیش کیوں آئی۔ صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ سندھ میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے بیوپاری من پسند دام وصول کر رہے ہیں، اگر حکومت تیل کی قیمتیں کم کرتی ہے تو پمپ مالکان پرانے نرخ پر پیٹرول فروخت کر رہے ہوتے ہیں۔

’اگر کہیں پٹاخے فروخت ہو رہے ہیں یا ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو وہاں میجسٹریٹ نہیں جاتا ، اس وجہ سے حکومت کو ضرورت پیش آئی کہ ان جرائم کی روک تھام کے لیے ڈی ڈی اوز کو سمری اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ موقعے پر سزا دے اور جرمانہ عائد کرے۔‘

قانونی ماہرین حکومت کی اس کوشش کو سیاسی اقدام قرار دیتے ہیں، ان میں سابق سول جج اور سینئر وکیل ظفر راجپوت بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ سے انتطامیہ کی علیحدگی کے نظریے کے منافی ہے۔

’عدلیہ سے انتظامیہ کی علیحدگی کے فیصلے کے تحت جب فرسٹ کلاس جوڈیشل میجسٹریٹ تعینات کیئے گئے تھے تو اس وقت یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ سیکنڈ کلاس اور تھرڈ کلاس میجسٹریٹ تعینات کیئے جائیں گے آخر حکومت انہیں کیوں تیعنات نہیں کرتی۔‘

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو اس سے متفق نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار ایک میں کمشنریٹ نظام کے بعد یہ اختیارات میجسٹریٹ کے حوالے تو ہوئے مگر یہ فیصلہ کارگر ثابت نہیں ہوسکا تھا۔

واضح رہے کہ پنجاب میں کمشنریٹ نظام بحال ہونے کے بعد سندھ میں بھی اس نظام کی بحالی کی کوشش کی جارہی ہیں، مگر اتحادیوں میں اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ جلد انویسٹی گیشن پولیس اور آپریشن کو بھی ایک کردیا جائے گا، اس سے پولیس کے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری ہوگی۔

اسی بارے میں
کراچی تشدد، ٹرائبیونل قائم
15 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد