BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 December, 2008, 08:43 GMT 13:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: بڑی تباہی، ہلاکتیں اٹھائیس

زخمی
اسی سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں جمعہ کی رات ہونے والے تباہ کن دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی ہیں جبکہ اسی سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جائے وقوع پر موجود ایس پی سٹی محمد اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح ملبے سے مزید اٹھ لاشیں نکالی گئیں ہیں جس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد اٹھائیس تک پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے میں تقریبا اسی کلوگرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے، اسی وجہ سے اس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملبہ صاف کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس میں مزید دو دن لگا سکتے ہیں۔

دھماکہ ایک تنگ سی گلی میں ہوا ہے جہاں اردگرد مارکیٹ، بازار اور گھر واقع ہیں۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے اردگرد واقع تقریباً پانچ بازاروں قصہ خوانی، بازار مسگراں، محمد علی جوہر روڈ، کباڑی بازار اور کوچی بازار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جائے وقوع پر چاروں طرف ایسی کوئی عمارت، دکان یا گھر نظر نہیں آتی نہیں جس کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ وہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسے اس بیس بائیس گز کی گلی میں ہر جگہ بارود ہی باردو رکھا گیا تھا۔ ہر طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے۔

تاجروں کے ایک نمائندے ملک میر الہی نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں تقریباً سو کے قریب دکانیں مکمل طورپر تباہ جبکہ تین سو کو دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک میریئٹ ہوٹل کے طرز پر دھماکہ تھا۔

جائے وقوع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جس گاڑی میں بارود رکھا گیا تھا اس گاڑی کا انجن اور ٹکڑے دور بازاروں میں ملے ہیں۔ جائے وقوع کے اردگرد زیاہ تر عمارات، دکان اور گھر یا تو تباہ ہوئے ہیں یا گرنے والے ہیں کیونکہ زیادہ تر عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

زیادہ تر نقصان چھوٹے دکانداروں کا ہوا ہے۔ جائے وقوع کے قریب کباڑی بازار میں موبائل اور کیسٹوں کی چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جن میں سے کوئی بھی استعمال کے قابل نہیں دکھائی دیتی۔

کباڑی بازار کے ایک دکاندار نے بتایا کہ کل سے ان کے پاس کوئی حکومتی اہلکار یا منتخب نمائندہ نہیں آیا ہے۔ کئی دکانداروں نے تو پشاور کے منتخب نمائندوں کو گالیاں تک نکالی۔ پشاور کی تاجر برادری نے تین دن تک سوگ کا اعلان کیا ہے۔

لاقانونیت کا دور دورہ
پشاور: خودکش حملے، اغوا کی وارداتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد