پشاور میں دھماکہ، اکیس افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شہر پشاور میں ایک دھماکے میں اکیس افراد ہلاک اور اسی کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ پشاور کے ڈی سی او ارباب شاہ رخ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ دھماکہ پشاور میں واقع قصہ خوانی بازار کے قریب کوچہ رسالدار میں واقع امام بارگاہ کے باہر ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کے آس پاس کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور ان میں آگ لگ گئی۔ آس پاس کی عمارتوں کے شیشے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ دھماکے نے پورے علاقے کو زلزلے کی طرح ہلا کے رکھ دیا۔ ’یہ بہت بڑا اور خوفناک دھماکہ تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سب کچھ جل رہا تھا۔ چاروں طرف ملبہ پڑا تھا۔‘ آئی جی سرحد ملک نوید نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ امام بارگاہ کے قریب ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خودکش حملہ نہیں تھا کیونکہ اس جگہ گڑھا پڑ گیا ہے۔
ایک اور عینی شاہد حاجی رب نواز نے بتایا کہ ’ہم مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد موجود تھے کہ ایک دم دھماکہ ہو گیا۔ مسجد کی چھت کے ٹکڑے ہمارے اوپر گر گئے۔ دھماکہ بہت زوردار تھا۔‘ وزیر اعلٰی سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف محرم الحرام کے حوالے ہی سے نہیں بلکہ ان کی کوشش ہے کہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملے روکنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل بہت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ ایسے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ ’ لیکن اس وقت میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔‘ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب بازار میں لوگ عید کے لیے خریدو فروخت میں مصروف تھے۔ واضح رہے کہ قصہ خوانی پشاور کا مصروف ترین بازار ہے۔ اس بازار میں دن کے ہر وقت لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ یہاں کھانے پینے کی چیزوں سمیت کپڑے، تانبے اور پلاسٹک کے برتنوں کا کاروبار بڑی سطح پر ہوتا ہے۔ اس جگہ کھلونوں کی بھی بہت تعداد میں دکانیں ہیں۔ |
اسی بارے میں پشاور، ایک خطرناک شہر کی کہانی25 November, 2008 | صفحۂ اول پشاور، امام بارگاہ دھماکہ سات زخمی24 November, 2008 | پاکستان عسکریت پسندوں کا حملہ، چار ہلاک26 November, 2008 | پاکستان سرحد، سفارتکاروں کا اغوا، بازیابی نہیں13 November, 2008 | پاکستان پشاور اور اطرف، لاقانونیت کی لہر13 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||