آئی ایم ایف کا قرض، فائدے بھی نقصان بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) اور حکومت پاکستان کے درمیان قرض کے حصول کا معاہدہ ماہرین معیشت کے لیے گرما گرم بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اسکے فوائد اور نقصانات کے بارے میں دلائل کا سلسلہ جاری ہے لیکن بیشتر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی معیشت کو درکار کیش فوری طور پر نہ ملنے کی صورت میں جو نقصان ملک اور بالخصوص غریب طبقے کو برداشت کرنا پڑتا اسکے مقابلے میں آئی ایم ایف کے ساتھ اس معاہدے کی شرائط پر عمل کی صورت میں ہونے والے مضر اثرات کہیں کم ہیں۔ اگلے ماہ پاکستان نے چار ارب ڈالر مختلف مالیاتی اداروں اور ملکوں کو ادا کرنے ہیں۔ یہ ادائیگیاں ان غیر ملکی قرضوں کی اقساط کے سلسلے میں ہیں جو پاکستان ہر سال واپس کرتا ہے۔ اگر تیس دسمبر تک یہ ادائیگیاں نہیں کی جاتیں تو پاکستان کو غیر ملکی قرضوں پر ’ڈیفالٹ‘ کرنے والے ممالک میں شامل کر لیا جاتا۔ یہ وہ صورتحال تھی جس کی بنیاد پر حکومت نے اعلان کیا کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ ’بادل ناخواستہ‘ قرض کے حصول کے لئے معاہدہ کر رہی ہے۔ ایسا حکومت نے تیسرے اور آخری آپشن کے طور پر کیا۔ پہلے دو آپشنز میں دوست ممالک اور نرم شرائط پر قرض دینے والے ادارے شامل تھے لیکن یہ آپشنز زیر عمل نہیں آسکے۔ پاکستان میں عالمی بنک کے سابق نمائندے عابد حسن آئی ایم ایف سےملنے والے قرض کو اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔
انکا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست ہے کہ آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی ادارے سخت مالیاتی نظم قائم کرنے اور اخراجات کم کرنے پر زور دیتے ہیں جس سے بالعموم قرض لینے والے ممالک میں اقتصادی ترقی کی شرح (جی ڈی پی) کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔ جس سے بیروزگاری کی شرح میں اضافے جیسے منفی اثرات معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ لیکن عابد حسن تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کمزور مالیاتی پوزیشن کے باعث پاکستان کو ویسے بھی اپنی اقتصادی شرح نمو کی رفتار کم کرنی ضروری ہے کیونکہ تیز رفتار معیشت کو جس ’کیش فلو‘ کی ضرورت ہوتی ہے وہ پاکستان کو دستیاب نہیں ہے۔ مزید یہ کہ تیز رفتار معیشت مہنگائی کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسکے برعکس اگر پاکستان یہ قرض نہ لیتا تو اگلے ماہ اسے غیر ملکی قرض واپس نہ کر سکنے والے ممالک یا غیر ملکی قرض کے تعلق سے دیوالیہ ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا۔ اسکے نتائج کی فہرست بہت طویل ہے جس میں غیرملکی سرمایہ کاری کا فقدان، قرضوں کی عدم دستیابی، ترقیاتی پروگراموں کی بندش، تجارتی مسائل وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن عابد حسن ان منفی اقدامات کا جو ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ افراط زر کی شرح میں ناقابل یقین حد تک اضافے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی روابط منقطع ہونے کے بعد پاکستان کو اپنے روز مرہ کے اخراجات سے نمٹنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مقامی کرنسی چھاپنے کے علاوہ کوئی اور آپشن نہ ہوتا اور نتیجہ یہ ہو سکتا تھا کہ افراط زر کی شرح جو اس وقت پچیس فیصد کے قریب ہے، وہ بڑھ کر کئی سو فیصد تک ہو سکتی تھی۔ افراط زر میں اس غیر معولی اضافے کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کو ہوتا ہے۔
دوسری جانب مالیاتی نظم سخت کرنے سے افراط زر کی شرح میں کمی کا سلسلہ بہت سست روی سے شروع ہو چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس ہفتے اس کی شرح میں معولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شمولیت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام پر عمل کرنے کی صورت میں اقتصادی نمو کی شرح کم ہونے کے علاوہ صنعتی پیداوار کا گراف بھی گرنا شروع ہوتا ہے جس سے بیروزگاری کی شرح بڑھتی ہے۔ حکومت کو بجلی، گیس وغیر پر دی جانے والی رعایتی قیمت (سبسڈی) واپس لینا پڑتی ہے جس سے انکی قیمت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوشش میں ترقیاتی اخراجات بھی کٹوتی کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایک اور معاشی ماہر اسد سعید کہتے ہیں کہ یہ تمام امکانات کسی حد تک آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام شروع کرنے کی صورت میں ملکی معیشت کو درپیش ہو سکتے ہیں۔ اسد سعید نے کہا کہ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے آئی ایم کے ساتھ پروگرام شروع کرنے سے طویل مدت میں انکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ کچھ ایسا ہی تجربہ پاکستان کا بھی ہے۔ لیکن اسد سعید کا کہنا ہے کہ اب عالمی معاشی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں نے آئی ایم ایف کو بھی اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثلاً یہ پہلی بار ہے کہ آئی ایم ایف نے غریب لوگوں کی بہتری کے لئے کئے جانے والے اخراجات میں کٹوتی نہ کرنے کی شرط رکھی ہے۔ ’پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جو شرائط طے ہوئی ہیں ان میں ابھی تک ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی جس پر خطرے کی گھنٹی بجنی چاہئے۔ اب وہ وقت نہیں ہے کہ جب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی آنکھیں بند کر کے مخلافت کی جا سکے۔‘ بعض ماہرین اس صورتحال پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا وہ بیان بھی نقل کرتے ہیں جس میں خود وزیراعظم پاکستان نے اعتراف کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہونے سے پاکستانی معاشی اور مالیاتی نظام میں وہ نظم و ضبط آ جائیگا جس کی کمی کئی برس سے محسوس کی جارہی تھی۔ اور اس بارے میں بھی ماہرین معیشت کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایسا بھی شاید پہلی بار ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے خود ایک بیان کے ذریعے ان افواہوں کو بھی ابدی نیند سلا دیا ہے کہ اس معاہدے کے لئے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کچھ خفیہ شرائط بھی طے کی گئی ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرضہ 15 November, 2008 | پاکستان آئی ایم ایف سے قرض کا خیر مقدم16 November, 2008 | پاکستان ’قرض گڈ گورننس کے لیے ضروری‘ 16 November, 2008 | پاکستان بحرانوں کا پاکستان21 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||