BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرضہ

یہ قرض ساڑھے تین اور ساڑھے چار فیصد سود پر ملے گا:شوکت ترین
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر قرض کی فراہمی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیرِاعظم کے مشیرِ خزانہ شوکت ترین نے سنیچر کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کے دفتر میں ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔اس پریس کانفرنس میں سٹیٹ بینک کی گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر بھی موجود تھیں۔

شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں عالمی معاشی بحران کے تناظر میں ملک کی گِرتی ہوئی معیشت کا طائرانہ جائزہ لیا اور اس کے بعد اعلان کیا کہ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے آئی ایم ایف اور حکومتِ پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے تحت سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کا قرض پاکستان کو فراہم کیا جائے گا جو پانچ سال میں واجب الادا ہوگا۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کا پلان منظور کرتے ہوئے قرض دینے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قرض ساڑھے تین اور ساڑھے چار فیصد سود پر ملے گا جو مالی سال 12۔2011 سے واجب الادا ہوگا اور اسے پانچ سال میں ادا کرنا ہوگا۔

ان کے بقول آئی ایم ایف کی جانب سے اس قرض کی پہلی قسط کی ادائیگی اسی ماہ نومبر میں کی جائے گی تاہم انہوں کہا کہ یہ ان کا بورڈ فیصلہ کرے گا کہ اس ماہ کتنی رقم کی ادائیگی پاکستان کو بطور قرض کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال دسمبر تک پاکستان کو سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر میں سے ساڑھے چار ارب ڈالر ملیں گے جبکہ بقیہ اگلے سال ملیں گے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس موقع پر کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے ملنے والا قرض خاص طور پر تیزی سے کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور بیلنس آف پیمنٹس کو برقرار رکھنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ اس قرض کی منظوری کے بعد ایک مرحلہ تو طے ہوگیا اور حکومت نے عوام سے جو وعدہ کیا تھا کہ پاکستان کبھی دیوالیہ نہیں ہوگا وہ وعدہ آج حکومت نے پورا کردیا ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کا پلان منظور کرتے ہوئے قرض دینے کی منظوری دی ہے، اور جیسے ہی اس کا باقاعدہ اعلان ہوگا یہ دستاویز آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر آجائے گی۔

 اس سال دسمبر تک پاکستان کو سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر میں سے ساڑھے چار ارب ڈالر ملیں گے جبکہ بقیہ اگلے سال ملیں گے۔یہ قرض ساڑھے تین اور ساڑھے چار فیصد سود پر ملے گا جو مالی سال 12۔2011 سے واجب الادا ہوگا

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے بجٹ میں جو اہداف رکھے ہیں تقریباً وہی اہداف آئی ایم کے ساتھ معاہدے میں بھی رکھے گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ حکومت کو اپنے خرچے کم کرنا پڑیں گے، بجٹ خسارہ کم کرنا پڑے گا، اور حکومت کو مرکزی بینک سے قرض لینا بند کرنا پڑے گا اور اگر یہ اہداف پورے کر دیے گئے تو آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر ہم پورا اتریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دوسرے دوستوں سے بھی بات کرنی ہے جبکہ کچھ دوستوں سے بات چل رہی ہے تاکہ مزید فنڈ حاصل کیے جاسکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمارے دوست اس بار ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔

مشیرِ خزانہ کا کہا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی پیداوار کا بجٹ خسارہ سات اعشاریہ چار فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اسے کم کر کے چار اعشاریہ تین فیصد کی سطح تک لانا ہے جو کہ ایک مشکل ہدف ہے لیکن اسے حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پایا جائے گا، لیکن کئی ایسے معاملات ہوتے ہیں مثلاً دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی ہے، اگر اس پر زیادہ اخراجات ہوتے ہیں تو ترقیاتی اخراجات کو بھی کم کرنا پڑا تو کریں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت کا اردارہ نہیں ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے کیونکہ ابھی تین سے چار سو ارب روپے حکومت کے پاس گذشتہ سالوں کا پڑا ہے جو اب تک خرچ ہی نہیں ہوا ہے، اور اس سال جو رقم ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کی گئی ہے اور جو گذشتہ سالوں کی بچ گئی ہے وہ ملا کر کوئی سات یا آٹھ سو ارب روپے بنتی ہے لہذٰا ترقیاتی کام متاثر نہیں ہوں گے۔

اسی بارے میں
آئی ایم ایف، خصوص اجلاس
10 November, 2008 | پاکستان
شرحِ سُود میں دو فیصد اضافہ
12 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد