BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 16:11 GMT 21:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک اور شیطانی چکر‘

مالی بحران نے دنیا کی معاشی بنیادیں ہلا دی ہیں
بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا ایمرجنسی قرضہ جن سخت شرائط پر منظور کیا ہے ان میں سے کچھ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

مثال کے طور پر مالی پالیسی کو سخت بنانے کی شرط۔ یورپی یونین میں شرح سود دو فیصد پر لانے کی بات ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ پہلے سے ہی پندرہ فیصد ہے۔ عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور کھانےکے تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں جس کا براہ راست نتیجہ یہ ہوگا کہ افراط زر خود بہ خود کم ہوجائے گی۔ ایسے حالات میں مالی پالیسی کو سخت نہیں بلکہ نرم بنانے کی ضرورت ہے۔

آئی ایم ایف کی اس شرط سے شرح نمو سست ہوجائے گی، صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھے گی، بجلی پانی کے نرخ بڑھنے سے عام آدمی کی تکالیف بڑھیں گی اور روزگار کے مواقع بہت کم میسر ہوں گے۔

آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان بحٹ خسارے کو سن دو ہزار دس تک تین اعشاریہ تین فیصد تک لے آئے جبکہ امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ موجودہ مالی بحران سے نکلنے کے لیے وہ بجٹ خسارے کو بڑھانا چاہتے ہیں۔
اگر پاکستان بجٹ کا خسارہ گھٹاتا ہے تو یہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ شرط یہ لگائی جانی چاہیے تھی کہ آپ ٹیکس کی چوری روک کر آمدنی بڑھائیں اور طاقتور طبقوں کو جو رعایتیں دی گئی ہیں انہیں واپس لیکر نقصانات کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور سرکاری منصوبوں پر اخراجات بڑھائیں۔ اس سے معیشت ترقی کرتی اور عوام کو مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔

بنیادی بات یہ ہےکہ ہمارا جو ٹیکس نظام ہے، اس میں ٹیکس سے ہونے والی آمدنی کا قومی مجموعی پیداوار سے نتاسب خطے میں سے کم ہے۔ اسے بڑھانے کے لیے کوئی ٹھوس پروگرام نظر نہیں آیا۔

یہ بات سب کو نظر آرہی تھی کہ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر گزشتہ ایک برس سے مسلسل گر رہے تھے۔ نئی حکومت نے پچھلے سات مہینوں میں اپنی تمام توانائی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں صرف کی۔ اس کے بجائے حکومت بیرون ملک آباد پاکستانیوں کو بہتر شرح سود کی پیش کش کرکے زر مبادلہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی تھی۔ اسی طرح ہمارے وہ سیاست دان جن کے بیرون ملک کھاتے ہیں، کیا اپنا پیسہ پاکستان واپس لاکر ایک مثال قائم نہیں کر سکتے تھے؟

اس سے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو یہ اعتماد ملتا کہ ان کے غیر ملکی کرنسی کے کھاتے منجمد نہیں کیے جائیں گے۔ متبادل تو کئی ہوسکتے تھے لیکن لگتا یہ ہے کہ حکومت نے آنے کے ساتھ ہی یہ ذہن بنالیا تھا کہ اسے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے۔

مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جب ان قرضوں کی ادائیگی کا وقت آئے گا تو ہم ادائیگی کی حیثیت میں نہیں ہوں گے۔ یا تو ہمیں قرضوں کی معیاد بڑھانی پڑے گی یا تیزی سے اثاثے بیچنے پڑیں گے۔

اور پھر ایک اور شیطانی چکر شروع ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
بحرانوں کا پاکستان
21 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد