ڈیرہ اسمعیل خان کبھی پھولوں کا سہرا تھا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کا جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کبھی امن کا گہوارہ اور ڈیرہ ’پھلاں دا سہرا‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اب ملک میں جاری بد امنی کی لہر نے اس شہر کو بھی گھیرے میں لے رکھا ہے۔ آئے روز فرقہ وارانہ تشدد کے نام پر بے گناہ افراد کو قتل کیا جا تا ہے خودکش حملے کر دیے جاتے ہیں یا گنجان آباد علاقوں میں دھماکہ کر دیا جاتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں جنازے پر حملے یا دھماکے کے اب تین واقعے ہو چکے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد یا شیعہ سنی کا جھگڑا ڈیرہ میں نہیں تھا لیکن سن انیس سو چوراسی میں اچانک عاشورہ کے جلوس کو کمشنری بازار سے گزرنے نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ایسے واقعات پیش آنے لگے یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی نہ کسی رہنما کو ہلاک کر دیا جاتا تھا۔
مشاعروں میں شاعر مختلف زبانوں میں ڈیرہ اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں نظمیں اور گیت پیش کرتے تھے۔ عبدالمجید نازک مرحوم نے ایک پشتو نظم میں کہا ہے کہ ’سندھ سرا دہ خوا پخواہ پرتہ گلہ _ راشہ یو زل اوگورہ ڈیرہ گلہ‘(دریائے سندھ کے سنگم پر پڑا یہ ڈیرہ شہر ہے اور آؤ اس شہر کو ایک مرتبہ تم دیکھو، یہاں بازار اور تجارتی مرکز ہیں اور یہ شہر انتہائی خوبصورت ہے)۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو ڈیرہ پھلاں دا سہرا کہا جاتا تھا۔ یہاں پھول زیادہ پیدا ہوتے تھے خصوصا چمبیلی اور گلاب اور آج بھی کلاں بازار میں چمبیلی موتیا اور گلاب کے پھول اور ان کے بنے ہار بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔
دریائے سندھ کے کنارے لوگ پکنک جسے مقامی زبان میں ’دھاونڑی‘ کہتے ہیں مناتے تھے، خود کھانے پکاتے اور دریا میں نہاتے تھے۔ اب صورتحال مختلف تھی۔ اب اس شہر کے دکاندار مزدور اور سرکاری ملازمین سب خوف زدہ ہیں کسی کو سنی سجھ کر اور کسی کو شیعہ سمجھ کر مار دیا جاتا ہے۔ اتنے افراد قتل ہو چکے ہیں لیکن اب تک ان واقعات میں ملوث نہ کوئی شخص گرفتار ہوا ہے اور ناں ہی کسی کو سزا دی گئی ہے۔ حکومت اور پولیس کی طرف سے جو بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے وہ مقامی پولیس افسران کو تبدیل کر دینا ہوتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان ایک چھوٹا شہر ہے یہاں لوگوں کا انحصار زراعت اور تجارت پر ہے۔ غربت کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مزدوری کرتے ہیں اور روزانہ کی کمائی روزانہ کے حساب سے خرچ کردیتے ہیں اس لیے ایک دن کی چھٹی ان کے لیے ایک دن کا فاقہ ہوتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کارروائیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تو اس کا جواب انتہائی مشکل ہے کیونکہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ شیعہ اور سنی کا مسئلہ ڈیرہ کے لوگوں میں نہیں ہے تو پھر وہ کونسی قوتیں ہیں جو اس طرح کی کارروائیوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ارباب اختیار کا یہ فرض ہے کہ ایسے عناصر کی نشاندہی کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ اس سلسلے میں اس شہر کے سیاسی قائدین جیسے مولانا فضل الرحمان اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ان مسائل کے حال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سیاسی سطح پر اس مسئلے کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے لوگ اب پنجاب کے شہر بھکر کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں خودکش حملے میں اٹھائیس ہلاک19 August, 2008 | پاکستان ڈی آئی خان میں حالت کشیدہ20 August, 2008 | پاکستان ڈی آئی خان: حالات بدستور کشیدہ21 August, 2008 | پاکستان ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک17 September, 2008 | پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان مزید تین ہلاک29 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||