BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2008, 05:15 GMT 10:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیرہ اسمعیل خان کبھی پھولوں کا سہرا تھا

ڈیرہ اسمعیل خان
وہ بازار جہاں صبح اور شام کے وقت پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی اب ایسے ویران پڑے تھے جیسے یہاں کوئی بستا ہی نہیں ہے
صوبہ سرحد کا جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کبھی امن کا گہوارہ اور ڈیرہ ’پھلاں دا سہرا‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اب ملک میں جاری بد امنی کی لہر نے اس شہر کو بھی گھیرے میں لے رکھا ہے۔

آئے روز فرقہ وارانہ تشدد کے نام پر بے گناہ افراد کو قتل کیا جا تا ہے خودکش حملے کر دیے جاتے ہیں یا گنجان آباد علاقوں میں دھماکہ کر دیا جاتا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں جنازے پر حملے یا دھماکے کے اب تین واقعے ہو چکے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد یا شیعہ سنی کا جھگڑا ڈیرہ میں نہیں تھا لیکن سن انیس سو چوراسی میں اچانک عاشورہ کے جلوس کو کمشنری بازار سے گزرنے نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد کبھی کبھار ایسے واقعات پیش آنے لگے یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کسی نہ کسی رہنما کو ہلاک کر دیا جاتا تھا۔

پھولوں کے بازار
 ڈیرہ اسماعیل خان کو ڈیرہ پھلاں دا سہرا کہا جاتا تھا۔ یہاں پھول زیادہ پیدا ہوتے تھے خصوصا چمبیلی اور گلاب اور آج بھی کلاں بازار میں چمبیلی موتیا اور گلاب کے پھول اور ان کے بنے ہار بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں
دریائے سندھ کے کنارے پر آباد ڈیرہ اسماعیل خان میں میلے اور ثقافتی تقریبات کے علاوہ محلوں اور شہر کی سطح پر مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ میلہ اسپان کو اس علاقے میں کافی اہمیت حاصل رہی ہے جبکہ ڈیرہ کے مضافاتی علاقوں جیسے بلوٹ کا اپنا میلہ ہوتا ہے اور اس میلے کے دنوں میں ہندوؤں کے اپنے تہوار ہوتے رہے ہیں۔

مشاعروں میں شاعر مختلف زبانوں میں ڈیرہ اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں نظمیں اور گیت پیش کرتے تھے۔ عبدالمجید نازک مرحوم نے ایک پشتو نظم میں کہا ہے کہ ’سندھ سرا دہ خوا پخواہ پرتہ گلہ _ راشہ یو زل اوگورہ ڈیرہ گلہ‘(دریائے سندھ کے سنگم پر پڑا یہ ڈیرہ شہر ہے اور آؤ اس شہر کو ایک مرتبہ تم دیکھو، یہاں بازار اور تجارتی مرکز ہیں اور یہ شہر انتہائی خوبصورت ہے)۔

ڈیرہ اسماعیل خان کو ڈیرہ پھلاں دا سہرا کہا جاتا تھا۔ یہاں پھول زیادہ پیدا ہوتے تھے خصوصا چمبیلی اور گلاب اور آج بھی کلاں بازار میں چمبیلی موتیا اور گلاب کے پھول اور ان کے بنے ہار بڑی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں۔

دریا کنارے
 دریائے سندھ کے سنگم پر پڑا یہ ڈیرہ شہر ہے اور آؤ اس شہر کو ایک مرتبہ تم دیکھو، یہاں بازار اور تجارتی مرکز ہیں اور یہ شہر انتہائی خوبصورت ہے
شاعر عبدالمجید نازک
اب ڈیرہ وہ ڈیرہ نہیں رہا۔ یہاں آئے روز بم دھماکے ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے لوگ خوف کا شکار ہیں۔ کوئی تین ماہ پہلے جب میں ڈیرہ گیا تھا تو اتنا خوف میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا جتنا خوف اب لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ وہ بازار جہاں صبح اور شام کے وقت پیر رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی اب ایسے ویران پڑے تھے جیسے یہاں کوئی بستا ہی نہیں ہے۔

دریائے سندھ کے کنارے لوگ پکنک جسے مقامی زبان میں ’دھاونڑی‘ کہتے ہیں مناتے تھے، خود کھانے پکاتے اور دریا میں نہاتے تھے۔ اب صورتحال مختلف تھی۔ اب اس شہر کے دکاندار مزدور اور سرکاری ملازمین سب خوف زدہ ہیں کسی کو سنی سجھ کر اور کسی کو شیعہ سمجھ کر مار دیا جاتا ہے۔

اتنے افراد قتل ہو چکے ہیں لیکن اب تک ان واقعات میں ملوث نہ کوئی شخص گرفتار ہوا ہے اور ناں ہی کسی کو سزا دی گئی ہے۔ حکومت اور پولیس کی طرف سے جو بڑا قدم اٹھایا جاتا ہے وہ مقامی پولیس افسران کو تبدیل کر دینا ہوتا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان ایک چھوٹا شہر ہے یہاں لوگوں کا انحصار زراعت اور تجارت پر ہے۔ غربت کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مزدوری کرتے ہیں اور روزانہ کی کمائی روزانہ کے حساب سے خرچ کردیتے ہیں اس لیے ایک دن کی چھٹی ان کے لیے ایک دن کا فاقہ ہوتا ہے۔

چھٹی کا مطلب فاقہ
 ڈیرہ اسماعیل خان ایک چھوٹا شہر ہے یہاں لوگوں کا انحصار زراعت اور تجارت پر ہے۔ غربت کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مزدوری کرتے ہیں اور روزانہ کی کمائی روزانہ کے حساب سے خرچ کردیتے ہیں اس لیے ایک دن کی چھٹی ان کے لیے ایک دن کا فاقہ ہوتا ہے
ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال مغرب میں جنوبی وزیرستان ہے جہاں گزشتہ سال فوجی آپریشن میں شدت آنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے ڈیرہ اسماعیل خان آگئے تھے اور اس شہر کی آبادی میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کارروائیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے تو اس کا جواب انتہائی مشکل ہے کیونکہ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ شیعہ اور سنی کا مسئلہ ڈیرہ کے لوگوں میں نہیں ہے تو پھر وہ کونسی قوتیں ہیں جو اس طرح کی کارروائیوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

ارباب اختیار کا یہ فرض ہے کہ ایسے عناصر کی نشاندہی کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔ اس سلسلے میں اس شہر کے سیاسی قائدین جیسے مولانا فضل الرحمان اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی ان مسائل کے حال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سیاسی سطح پر اس مسئلے کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے لوگ اب پنجاب کے شہر بھکر کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

منگل باغمنگل باغ انٹرویو
’جرائم کے خلاف کارروائی جاری رہے گی‘
ہنگو کا مسئلہ
جھگڑا زمین کے ٹکڑے کا لڑائی فرقے کی
اسی بارے میں
ڈی آئی خان میں حالت کشیدہ
20 August, 2008 | پاکستان
ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک
17 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد