BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باجوڑ لشکر طالبان جھڑپ، نو ہلاک

قبائلی لشکر میں شامل کچھ افراد کو اغواء کر لیا گیا ہے
قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں طالبان مخالف قبائلی لشکر اور شدت پسندوں کے مابین ایک جھڑپ میں عسکریت پسند کمانڈر اور قبائلی سرداروں سمیت نو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ عسکریت پسندوں نے سات قبائلی مشران اور علاقے کے ایک سرکردہ شخصیت کو اغواء کرنے کا دعوی کیا ہے۔

باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ پیر کو علاقے کے ایک بڑے تجارتی مرکز عنایت کلی میں پیش آیا۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ماموند طالبان مخالف لشکر کے چند سرکردہ قبائلی رہنما صدر مقام خار جارہے تھے کہ عنایت کلی کے مقام پر طالبان جنگجوؤں نے لشکر کے افراد کو محاصرے میں لے لیا۔

انہوں نے کہا کہ لشکر کے رہنماؤں نے علاقے کی ایک سرکردہ شخصیت اسماعیل خان کے گھر میں پناہ لے لی جبکہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس میں دونوں طرف کے لوگ مارے گئے۔

ان کے مطابق جھڑپ میں پانچ طالبان ہلاک ہوئے ہیں تاہم عسکریت پسندوں نے ایک طالبان کمانڈر شہزادہ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری اہلکار نے کہا کہ طالبان لشکر کے چند رہنماؤں کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ عسکریت پسندوں نے لشکر کے کتنے افراد کو قبضے میں لیا ہے۔

دریں اثناء کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے دعوی کیا ہے کہ جھڑپ میں چار قبائلی مالکان ہلاک جبکہ پانچ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ طالبان نے عنایت کلی کے ایک سرکردہ خان اسماعیل خان کو بھی حراست میں لیا ہے جس کے گھر میں لشکر کے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

ترجمان نے بتایا کہ اسماعیل خان کی طرف سے لشکر کے رہنماؤں کو طالبان کے حوالے نہ کرنے پر ان کے گھر کو بھی دھماکہ خیز مواد سے تباہ کیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ لڑائی میں ان کا ایک کمانڈر شہزادہ مارا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی وڑہ ماموند کے علاقے میں طالبان اور قبائلی لشکر کے مابین جھڑپوں میں لشکر کے دو سرکردہ مشران ملک فضل معبود اور ملک جندر ہلاک ہلاک ہوگئے تھے۔ طالبان نے لشکر کے پچیس افراد کو اغواء کرنے کا بھی دعوی کیا تھا تاہم باجوڑ کی مقامی انتظامیہ نے عسکریت پسندوں کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی تھی۔

اسی بارے میں
لوئی سم پر کنٹرول کا دعویٰ
25 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد