BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 November, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایف آر بنوں: غیر ملکی خاتون لاپتہ

بنوں
خدیجہ عبدالقہار منگل کی صبح شمالی وزیرستان سے متصل جانی خیل کے علاقے کی جانب روانہ ہوئی تھیں
صوبہ سرحد میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے متصل ایف آر بنوں میں ایک غیر ملکی خاتون اپنے تین دیگر مقامی ساتھیوں کے ہمرا لاپتہ ہوگئی ہیں۔

خیال کیا جارہا ہے کہ غیرملکی خاتون کینیڈا کی شہری اور پیشہ کے لحاظ سے صحافی ہیں۔

ضلع بنوں کے پولیس آفسر محمد عالم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملکی خاتون جسکے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ کنیڈین شہری ہیں منگل کو اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ ایف آر بنوں جانی خیل کے علاقے سے لاپتہ ہوگئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اطلاع ملنے پر پولیس نے تحقیقات شروع کردی جس کے دوران معلوم ہوا کہ خدیجہ عبدالقہار نامی ایک غیرملکی خاتون نے ایک مقامی ہوٹل میں رات گزاری تھی اور منگل کی صبح شمالی وزیرستان سے متصل جانی خیل کے علاقے کی جانب روانہ ہوئی تھیں جس کے بعد ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں اغواء کرلیا گیا ہے البتہ مقامی انتظامیہ نے ان کی تلاش شروع کردی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کنیڈین خاتون جانی خیل میں انوارالحق نامی ایک پیر سے ملنے جارہی تھی کہ راستے میں انہیں نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والوں میں پیر انوارالحق کے دو بھائی بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے میں پیر انوارلحق سے رابطہ کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔

خدیجہ عبدالقہار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ’فری لانس‘ صحافی ہیں اور وہ ’ جہاد انسپن‘ کے نام سے اپنی ایک ویب سائٹ بھی چلارہی ہیں۔ اس ویب سائٹ پر خدیجہ عبدالقہار نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ کے دوران اسلام کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ شروع کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مطالعہ کے بعد انہوں نے بارہ اپریل دو ہزار دو کو عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ویب سائٹ پر انہوں نے جواپنی دو تصاویر شائع کی ہیں ان میں سے ایک میں انہوں نے ’ اسلامی طریقے‘ سے اپنا سر کالی چادر سے ڈھانپا ہوا ہے۔

چند دن قبل جب خدیجہ عبدلقہار پشاور آئی تھیں تو انہوں نے بعض صحافیوں سے بھی ملاقات کی تھی۔ ایک صحافی نے بتایا کہ خدیجہ عبدالقہار قبائلی علاقوں میں جانا چاہ رہی تھی۔ ان کے بقول گفتگو کے دوران وہ اپنے آپ کو طالبان کی حمایت یافتہ اور امریکہ کی سخت مخالف کے طور پر پیش کررہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد