BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما پالیسی تبدیل کریں: طالبان

اوباما
بات امریکی صدر کے چہرے کی تبدیلی کی نہیں بلکہ پالیساں بدلنے کی ہیں: قاری یوسف احمدی
افغانستان اور پاکستان میں سرگرم طالبان نے باراک اوباما کے امریکی صدر منتخب ہونے پر کہا ہے کہ جب تک وہ صدر بش کی پالیسیاں عملاً ترک نہیں کر لیتے تب تک طالبان انکی کامیابی پر خوشی یا دکھ کا اظہار نہیں کر سکتے۔

افغانستان کے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے کہا کہ باراک اوباما کے امریکی صدر منتخب ہونے پر طالبان کی صفوں میں خوشی اور نہ ہی دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول بات امریکی صدر کے چہرے کی تبدیلی کی نہیں بلکہ پالیساں بدلنے کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتخاباتی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی کے جان مکین نے زور اس بات پر دیا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے اس وعدے پر عملدرآمد کرتے ہیں تو پھر طالبان کو ان کے انتخاب پر کوئی خوشی نہیں ہوگی۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر نئی امریکی انتظامیہ طالبان سے بات چیت کی پالیسی بناتی ہے تو کیا وہ مذاکرات کرنے کو تیار ہونگے، قاری یوسف کا کہنا تھا ’مذاکرات صرف اس شرط پر ہونگے کہ افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کو مکمل طور پر بیدخل کیا جائے۔‘

دوسری طرف پاکستان میں سرگرم طالبان کے ایک ترجمان مسلم خان نے بھی کہا ہے کہ جب تک افغانستان اور عراق سے امریکی فوج کا انخلاء نہیں ہوتا اور پاکستانی حکومت پر امریکی دباؤ برقرار رہتا ہے تب تک امریکہ میں قیادت کی تبدیلی کو ایک بےمعنی عمل سمجھا جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم خان کا کہنا تھا ’اگر نومنتخب امریکی صدر باراک اوباما بھی افغانستان اور عراق میں سابقہ پالیسی برقرار رکھتے ہیں اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کا راستہ روکا جاتا ہے تو اس صورت میں امریکہ کے خلاف ہماری مسلح جدوجہد پہلے کی طرح جاری رہے گی۔‘

انہوں نے امید ظاہر کی کہ باراک اوباما مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے امریکی عوام کے ٹیکس کو دنیا کو بارود کے ڈھیر میں بدلنے کی بجائے ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد