’امداد ملی نہیں اور جو ملی مفید نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں زلزلے کے متاثرین دو دن گزر جانے کے بعد بھی امداد کے منتظر ہیں کیونکہ امدادی سامان دور دراز کے علاقوں میں نہیں پہنچ پا رہا ہے ور جو پہنچ چکا ہے وہ اس قابل نہیں کہ اس سے متاثرین مستفید ہو سکیں۔ متاثرین کے بقول امدادی سامان ان تک نہ پہنچنے کی ایک بہت بڑی وجہ ضلعی انتظامیہ کی مداخلت ہے۔ متاثرین زلزلہ کے مطابق ضلعی اتظامیہ نے کہا ہے کہ جو سامان پہنچے اسے پہلے ڈی سی او کے دفتر میں لایا جائے اور اس کے بعد جنہیں کہا جائے ان میں تقسیم کیا جائے جس کی وجہ سے غیر سرکاری تنظیموں کو بھی سامان تقسیم کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس ضمن میں غیر سرکاری تنظیم سحر کے ڈاکٹر دانش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا یہ بات درست ہے کہ ضلعی اتظامیہ نے کہا ہے کہ جو سامان پہنچے اسے پہلے ڈی سی او کے دفتر میں لایا جائے۔ زیارت میں موجود زلزلہ کے متاثرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں جو خیمے مہیا کیے گئے ہیں ان میں رات بسر نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق بلوچستان کا موسم بہت سرد ہے اور یہ خیمے سردی سے بچاؤ کے قابل نہیں۔ اور ہر متاثرہ خاندان کو ایک ایک خیمہ دیا گیا ہے جو کہ نا کافی ہے۔ اور انہیں لکڑیاں جلا کر رات گزارنی پڑتی ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کو کھانے پینے کی چیزیں مہیا ہیں لیکن ان کے پاس پکانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہاں زیادہ تر سیاسی جماعتیں امدادی سامان تقسیم کر رہی ہیں لیکن وہ صرف اور سیاسی کارکنوں اور ان کے رشتہ داروں میں تقسیم کر رہے ہیں۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم کو شفاف بنائیں اور مستحق افراد تک سامان کا پہنچنا یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں جلد از جلد گرم کپڑے، خیمے اور کھانے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ انہیں پکانے کے لیے چولہے یا سیلنڈر مہیا کرے۔ | اسی بارے میں بلوچستان کے لیے عالمی امداد کیوں نہیں؟31 October, 2008 | پاکستان ہلاکتوں اور امداد پر متضاد خبریں30 October, 2008 | پاکستان بلوچستان زلزلے میں 160 افراد ہلاک29 October, 2008 | پاکستان پاکستان فالٹ لائنز پر بیٹھا ہے29 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||