BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 October, 2008, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’علماء کی مدد حاصل کریں گے‘

پاک افغان
مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس نومبر کے آخری ہفتے میں کابل میں ہوگا
پاکستان اور افغانستان نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے عدم تشدد پر یقین رکھنے والے علمائے کرام کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان بدھ کو پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے افغانی ہم منصب ڈاکٹر رنگین دادفر سپانتا کے ساتھ دفتر خارجہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کا پارلیمانی وفد جلد ہی افغانستان کا دورہ کرے گا جہاں پر وہ افغان پارلیمنٹ کے ارکان سے ملاقاتیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد میں تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس نومبر کے آخری ہفتے میں کابل میں ہوگا۔

افعان وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی حکومت کے قیام کے بعد یہ سنہری موقع ہے کہ دونوں ملکوں کے درپیش مسائل کو حل کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملک دہشتگردی کا شکار ہیں اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنا ہوں گی۔

انہوں نے پاکستان میں نامزد افغان سفیر عبدالخالق کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا اور شاہ محمود قریشی نے ان کو سفیر کی جلد بازیابی کی یقین دہانی کرائی۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹرسپانتا نے کہا کہ افغانستان میں موجود بین القوامی سکیورٹی فورسز میں کوئی بھارتی فوجی شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی انجینئرز مختلف تعمیراتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف بھارتی قونصلیٹ کام کر رہے ہیں اور یہ قونصلیٹ مزار شریف، ہرات، جلال آباد اور قندھار میں واقع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت پاکستان کو کمزور نہیں کرنا چاہتی اور کسی کو بھی پاکستان کے اندورونی معاملات میں مداخلت کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ سرحد پار دہشتگردی سے دونوں ملکوں کو نقصان ہو رہا ہے اور سرحد کے قریب شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو بھی یہ باور کروایا ہے کہ اگر امریکی طیارے پاکستانی حدود میں آکر کارروائی کرتے رہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے۔

افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کے ملک میں صرف اُن شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں گے کوہتھیار پھینک کر ملکی آئین کو تسلیم کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے باہر ہونے والے خودکش حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں سردمہری آگئی تھی تاہم کولمبو میں ہونے والی سارک کانفرنس کے موقع پر افعان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات میں تمام امور پر غور کیا گیا۔

اسی بارے میں
پشاور، افغان قونصل جنرل اغوا
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد