’فوجی کارروائی امن کیلیے ضروری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیائی امور کے لئے امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر نے قبائلی علاقوں کے لئے پاکستانی حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کو امن کے قیام کے لئے ضروری قرار دیا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ہتھیار پھیکنے والوں کے ساتھ مذاکراتی عمل کی بھی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقات کے بعد امریکی سفارتخانے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ پاکستانی عوام اور انکی قیادت ہے اور انکے دورے کا مقصد حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں امریکہ کے تعاون کی یقین دہانی کروانا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں امریکیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت کی خبریں حقیقیت سے زیادہ افسانہ ہیں۔ جنوبی ایشیا کے بارے میں امریکی سفارتکار ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچے تھے جسکے فوراً بعد سے انہوں نے پاکستانی حکومتی رہنماؤں اور سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد انہوں نے پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف سے بھی ملاقات کی۔ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ انکے اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی اس جنگ میں پاکستانی قیادت کو اور عوام کو امریکی حمایت کا یقین دلانا ہے۔
شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں رچرڈ باؤچر نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کے حامی ہیں جو واقعی تشدد کا راستہ ترک کر کے حکومتی رٹ تسلیم کرتے ہیں۔ ’ایسے لوگوں کو تشدد ترک کر کے امن کا راستہ اختیار کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ لیکن ان لوگوں کے ساتھ بات نہیں ہو سکتی جو مذاکرات کو محض وقت گزارنے اور اپنی قوت کو مجتمع کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے عناصر کے خلاف حکومت پاکستان کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔‘ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ وہ اس نکتے پر حزب اختلاف کے راہنما نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران تبادلہ خیال بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ نواز کے قائد نے قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں فوری طور پر ختم کر کے مذاکرات کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی افغانستان اور پاکستان کے لئے ایک جیسی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس بارے میں عملی طور پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہے اور گزشتہ ماہ سعودی عرب میں طالبان یا دیگر شدت پسندوں کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کی اطلاعات غلط ہیں۔ پاکستان کے لئے اعلیٰ ترین پالیسی ساز نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں اور مبینہ طالبان کے خلاف حکومت کے حامی لشکروں کے کردار کو بے حد سراہا اور کہا کہ ایسے مشکل وقت میں جب ایک برس کے دوران امن کے حامی ایک سو سے زائد قبائلی سرداروں کو قتل کر دیا گیا ہے، ان لشکروں میں شامل قبائلی عوام کے حوصلے اور عزم کی داد دینا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے مستقل امن کے قیام اور اقتصادی چیلینجز سے نمٹنے کے لئے جو سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے صرف وہی پاکستان کو ان دونوں مسائل سے نجات دلوا سکتی ہے۔ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی اور حالیہ دنوں میں کئے جانے والے مشکل معاشی فیصلوں کے بارے میں انکا کہنا تھا ’ یہ سخت اور مشکل فیصلے ہیں لیکن ملک کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستانی حکومت اور عوام کے غیر متزلزل عزم کا مظہر بھی ہیں۔‘ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ میریٹ ہوٹل پر ہونے والا بم دھماکہ اس بات کا اظہار ہے کہ دہشت گردوں کا نشانہ پاکستانی قیادت اور عوام ہیں۔ ’ہم اس جنگ میں پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اور میرے یہاں آنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ حکومت سے دریافت کروں کہ انہیں اس جنگ میں ہمادی کس قسم کی مدد درکار ہے۔‘ پاکستانی حدود میں امریکی حملوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں امریکی افسر نے کہا کہ ’پاکستانی قبائلی علاقوں سے دہشت گرد جا کر افغانستان میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان سے وہ پاکستان آکر یہاں پاکستانی فوجیوں کو مارتے ہیں۔ ہم دونوں جانب کی حکومتوں کی مدد کررہے ہیں تاکہ اپنے اپنے علاقوں میں انکی رٹ قائم ہو اور ہم سب ملکر اس مشترکہ دشمن کا مقابلہ کریں۔‘ |
اسی بارے میں ’باہمی مفادات کی دوستی ہوگی‘19 October, 2008 | پاکستان باؤچر اچانک اسلام آباد پہنچ گئے18 October, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی، کشمیر کمیٹی تشکیل19 August, 2008 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||