پاکستان میں عید پر سخت سکیورٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں عیدالفطر کے موقع پر خودکش بمباروں کی موجودگی کی اطلاعات کے پیش نظر ملک بھر میں عید کے اجتماعات سخت حفاظتی انتظامات میں ہوئے ہیں تاہم خدشات کے برعکس اس موقع پر کہیں سے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ عید سے ایک روز قبل وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کو ایک یادداشت کے ذریعے بتایا تھا کہ عید کے موقع پر ملک کے بڑے شہروں میں خودکش حملہ آوروں کی موجودگی کی اطلاع ہے لہذا نماز عید کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ وزارت داخلہ نے جو اقدامات تجویز کیے تھے ان میں کھلے میدانوں میں نماز عید کے اجتماعات منعقد نہ کرنا اور مساجد میں خصوصی حفاظتی بندوبست کرنا شامل تھا۔ گزشتہ برس اکیس دسمبر کو پاکستان میں عیدالاضحٰی کی نماز کے اجتماع کے موقع پر صوبہ سرحد کے شہر چارسدہ میں ایک خودکش بم حملے میں پچاس نمازی ہلاک اور اس سے بھی زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ انہی خدشات کے پیش نظر اس بار ملک بھر میں عید کے اجتماعات خصوصی حفاظتی بندوبست کے دوران منعقد کیے گئے۔ مقامی تھانے کی پولیس کے علاوہ حساس سمجھے جانے والے علاقوں میں خصوصی حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے تھے۔
وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی اقدامات کا دائرہ مساجد کے علاوہ شہر کے دیگر حساس علاقوں تک وسیع کیا گیا تھا اور بعض مساجد کے باہر جامہ تلاشی کے عمل کے باعث نمازیوں کی طویل قطاریں بھی دیکھی گئیں۔ عید کے موقع پر خصوصی پولیس کے دستے دن بھر تمام اہم شاہراہوں پر تعینات رہے اور بعض مقامات پر ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کی تلاشی بھی لی جاتی رہی۔ کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق صوبہ بلوچستان میں عید کی نماز سخت حفاظتی انتظامات کے دوران ادا کی گئی جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے مہنگائی اور صوبے میں حالیہ دھماکوں سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں عید سادگی سے منائی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں اور تنظیموں نے عید پر احتجاجی ریلی نکالی۔کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں آج صبح عید گاہوں اور مساجد کے باہر پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ عید گاہوں میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار سکینرز سے مشتبہ مقامات کی تلاشی لیتے رہے۔ پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ میں کوئی تین ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ آج کوئٹہ شہر میں نہ تو کوئی بڑی گہما گہمی نظر آئی اور ناں ہی پارکوں میں صبح کے وقت وہ معمول کا رش دیکھنے میں آیا ہے جو ہمیشہ عیدین میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس بار ملک کے بیشتر شہروں میں عید کا رنگ کچھ اس وجہ سے بھی پھیکا رہا کہ عید کا چاند نظر آنے کا اعلان رات گئے کیا گیا اور بالخصوص خواتین کی شاپنگ ادھوری رہ گئی۔ اس بارے میں ایک خاتون خانہ عطیہ چشتی نے بتایا کہ ’محکمہ موسمیات کی جانب سے مسلسل کہا جارہا تھا کہ دو اکتوبر سے پہلے عید ہونے کا امکان نہیں ہے لیکن رات گئے اچانک عید کا اعلان ہونے سے نہ صرف چاند رات کا مزا کرکرا ہو گیا بلکہ بہت سی ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں خریدنے سے رہ گئیں جو عید کے حسن کو دوبالا کر دیتی ہیں۔ ان میں چوڑیاں سرفہرست ہیں‘۔
عید عام توقعات سے ایک روز قبل ہی ہو جانے سے چھوٹے دوکانداروں اور خاص طور پر ملبوسات فروخت کرنے والوں کو بھی خاصا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ فیصل آباد کی ایک مارکیٹ میں بچوں کے کپڑے فروخت کرنے والے ایک دکاندار شفقت حسین کا کہنا تھا کہ ’عمومی تاثر یہی تھا کہ عید دو اکتوبر کو ہو گی لہذا بیشتر لوگوں نے یکم اکتوبر کی رات ہی خریداری کا منصوبہ بنایا تھا لیکن سب گڑ بڑ ہو گئی‘۔ جب ان سے چاند رات کے روز خریداری کی صورتحال کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا تو انکا کہنا تھا کہ پورے رمضان کی فروخت ایک طرف اور چاند رات کو ہونے والی کمائی ایک طرف‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||