BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 October, 2008, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیت اللہ وفات کی خبریں بےبنیاد‘

بیت اللہ محسود
بیت اللہ محسود کو ذیابیطس کی بیماری لاحق ہے
تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ تنظیم کے امیر بیت اللہ محسود مکمل طور پر صحت یاب ہیں اور ان کی وفات کی خبریں بےبنیاد ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بیت اللہ خود بھی وضاحت کی خاطر میڈیا سے بات کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھیوں کے مشورے پر سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر مراد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس بھی بیت اللہ محسود کے انتقال کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

بیت اللہ محسود کے نائب اور ان کے قریب ترین ساتھی ذوالفقار محسود نے بی بی سی سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی طالبان کے امیر نے عید کا دن قبائلی علاقے میں نشانہ بازی اور گاڑیوں کی دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لے کر گزارا۔تاہم تحریک طالبان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

 بیت اللہ محسود کی صحت سے متعلق شکوک و شبہات گزشتہ کئی روز سے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں ان کی بیماری اور موت کے خبروں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ طالبان ترجمان مولوی عمر کی تردید کے باوجود میڈیا میں خبر گرم رہی کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں روایت ہے کہ نوجوان اکثر عید کے تہوار پر اپنی بندوقوں سے نشانہ بازی اور کچے پکے راستوں پر گاڑیوں کی دوڑ لگا کر گزراتے ہیں۔

بیت اللہ محسود کی صحت سے متعلق شکوک و شبہات گزشتہ کئی روز سے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں ان کی بیماری اور موت کے خبروں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ طالبان ترجمان مولوی عمر کی تردید کے باوجود میڈیا میں خبر گرم رہی کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔

تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر کا بھی ایک روز قبل بیت اللہ کی موت کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’ان کی صحت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ بیت اللہ نے چند روز قبل دوسری شادی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیت اللہ کی پہلی بیوی سے بچے نہیں ہیں‘۔

ذوالفقار محسود کا کہنا تھا کہ تنظیم کو بیت اللہ محسود کی وفات کی خبروں سے شدید دکھ ہوا ہے کہ عید جیسے موقع پر ان کے خلاف اس قسم کی بقول ان کے’گھٹیا چال‘ چلی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان خبروں کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخر کیسے یہ خبر پاکستانی اور پھر بعد میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اچھالی گئی۔

 میجر مراد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس بھی بیت اللہ محسود ہلاکت کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

تحریک کا کہنا تھا کہ بیت اللہ کی موت کی خبر میڈیا کے ذریعے ان کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ ایسی خبریں شائع یا نشر کرنے سے پہلے ان کی مکمل تصدیق کروالیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔

یاد رہے کہ بیت اللہ محسود کو ذیابیطس کی بیماری لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ ماضی میں طویل عرصے تک علیل رہ چکے ہیں لیکن اب ان کا دعوٰی ہے کہ وہ مکمل صحت یاب ہیں۔

ملا عمرایک چھوٹا کردار؟
’امریکہ کے لیے پاکستانی طالبان زیادہ اہم نہیں‘
اسی بارے میں
بیت اللہ کی صحت کا معمہ
29 September, 2008 | پاکستان
امریکی حملے میں’پانچ ہلاک‘
30 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد