فوجی نوعیت کا بارود کہاں سے آیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے بیس ستمبر کے خود کش حملے کو چار روز گزر چکے ہیں لیکن حملے میں ’فوجی نوعیت کے بارود‘ کے استعمال کا پہلو ذرائع ابلاغ میں ہونے والے مباحثوں سے غائب ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلی بار میریئٹ دھماکے میں فوجی نوعیت کا بارود استعمال ہوا جس میں مارٹر گولے، آرٹلری راؤنڈ اور المونیم پاؤڈر بھی شامل تھا۔ تاحال انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ مارٹر اور آرٹلری راؤنڈ استعمال شدہ تھے یا کہ بارود سے بھرے۔
مشیر داخلہ کے بیان کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، مارٹر گولے اور آرٹلری راؤنڈ دھماکہ کرنے والوں کے ہاتھ کیسے لگے؟۔ اب تک ہونے والے خود کش حملوں میں زیادہ تر حملے پیدل بمباروں نے کیے جبکہ بعض حملوں میں سائیکل اور موٹر سائیکل بھی استعمال ہوئے۔ صرف چند حملے ایسے ہیں جس میں بارود سے بھری کاریں استعمال ہوئیں۔ ایسے حملوں میں رواں سال مارچ میں لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت اور ماڈل ٹاؤن میں ایک نجی اشتہاری کمپنی کے دفتر پر ہونے والےحملے شامل ہیں۔ پاکستان میں شدت پسندوں کے کیے گئے حملوں کی نوعیت، بارود اور طریقہ واردات میریئٹ ہوٹل کے دھماکے سے کہیں مختلف ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ بیس ستمبر کا دھماکہ کسی منظم، ادارے، تنظیم یا گروہ کا ہی ہوسکتا ہے۔
اگر ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ سانحہ فدائینِ اسلام نامی شدت پسندوں کے گروہ کا شاخسانہ ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں انتہائی فوجی نوعیت کا یہ گولہ بارود کہاں سے ہاتھ لگا؟ شدت پسندوں نے افغانستان سے حاصل کیا، امریکی کیمپوں پر حملوں کے دوران انہیں ہاتھ لگا یا پھر کسی پاکستانی فوجی فیکٹری سے یہ بارود چوری ہوا؟ اس بارے میں جب ایک دفاعی مبصر اور سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ استمال شدہ مارٹر اور آرٹلری شیل تو کباڑیوں سے بھی مل جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حملہ آوروں نے سپلنٹر کے طور پر وہ استعمال کیے ہوں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آر ڈی ایکس بارود اور المونیم پاؤڈر فوجی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق آر ڈی ایکس ٹینک شکن بارودی سرنگوں میں استمال ہوتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ یہ بارود شدت پسندوں کو افغانستان سے ہاتھ لگا ہو، انہوں نے خریدا ہو یا بھارت یا افغانستان نے دیا ہو۔ جب ان سے پوچھا کہ فوجی نوعیت کا بارود استعمال ہونے کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایسے شواہد ملے ہوں کہ اس میں بھارت یا افغانستان ملوث ہیں؟ لیکن بعض دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات کم از کم پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر شائع ہوتی اور اس کا چرچہ بھی ہوتا۔ مشیر داخلہ نے میریئٹ پر حملے کی جانچ میں امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی تعاون کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سیکورٹی ایجنسیوں کے مکمل اہل ہونے اور ان سے ہی تفتیش کرانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا یہ بیان کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے کیونکہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے معاملے میں یہی مشیر داخلہ اقرار کرچکے ہیں کہ پاکستان میں تفتیش کی جدید سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور تاحال اقوام متحدہ سے اس کی تفتیش پر زور دے رہے ہیں۔ | اسی بارے میں فدائینِ اسلام نےذمہ داری قبول کرلی22 September, 2008 | پاکستان ’کہہ دو کہ آپریشن کا ردعمل ہے‘22 September, 2008 | پاکستان ’ملکی قیادت بال بال بچ گئی‘22 September, 2008 | پاکستان میریٹ: سکیورٹی ناکام رہی: فضل23 September, 2008 | پاکستان مشیر داخلہ یا ’مشیرِ ابہام‘24 September, 2008 | پاکستان ’خطرات کے باوجود بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے‘24 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||