BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 11:17 GMT 16:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی نوعیت کا بارود کہاں سے آیا؟

میریئٹ ہوٹل
صرف چند حملے ایسے ہیں جس میں بارود سے بھری کاریں استعمال ہوئیں
اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے بیس ستمبر کے خود کش حملے کو چار روز گزر چکے ہیں لیکن حملے میں ’فوجی نوعیت کے بارود‘ کے استعمال کا پہلو ذرائع ابلاغ میں ہونے والے مباحثوں سے غائب ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ رحمٰن ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلی بار میریئٹ دھماکے میں فوجی نوعیت کا بارود استعمال ہوا جس میں مارٹر گولے، آرٹلری راؤنڈ اور المونیم پاؤڈر بھی شامل تھا۔ تاحال انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ مارٹر اور آرٹلری راؤنڈ استعمال شدہ تھے یا کہ بارود سے بھرے۔

حقیقت کیا ہے
 بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے معاملے میں یہی مشیر داخلہ اقرار کرچکے ہیں کہ پاکستان میں تفتیش کی جدید سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور تاحال اقوام متحدہ سے اس کی تفتیش پر زور دے رہے ہیں
پاکستان کے کئی اخبارات میں پہلے تو یہ بات شائع ہی نہیں ہوئی اور اگر بعض اخبارات میں شائع ہوئی بھی تو اُسے اہمیت نہیں دی گئی۔ پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ذمہ دار اہلکار نے یہ تسلیم کیا کہ دھماکے میں فوجی نوعیت کا بارود استعمال ہوا۔

مشیر داخلہ کے بیان کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد، مارٹر گولے اور آرٹلری راؤنڈ دھماکہ کرنے والوں کے ہاتھ کیسے لگے؟۔

اب تک ہونے والے خود کش حملوں میں زیادہ تر حملے پیدل بمباروں نے کیے جبکہ بعض حملوں میں سائیکل اور موٹر سائیکل بھی استعمال ہوئے۔

صرف چند حملے ایسے ہیں جس میں بارود سے بھری کاریں استعمال ہوئیں۔ ایسے حملوں میں رواں سال مارچ میں لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت اور ماڈل ٹاؤن میں ایک نجی اشتہاری کمپنی کے دفتر پر ہونے والےحملے شامل ہیں۔ پاکستان میں شدت پسندوں کے کیے گئے حملوں کی نوعیت، بارود اور طریقہ واردات میریئٹ ہوٹل کے دھماکے سے کہیں مختلف ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ بیس ستمبر کا دھماکہ کسی منظم، ادارے، تنظیم یا گروہ کا ہی ہوسکتا ہے۔

بارود کہاں سے آیا
 استمال شدہ مارٹر اور آرٹلری شیل تو کباڑیوں سے بھی مل جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حملہ آوروں نے سپلنٹر کے طور پر وہ استعمال کیے ہوں۔ آر ڈی ایکس بارود اور المونیم پاؤڈر فوجی نوعیت کا ہے۔ آر ڈی ایکس ٹینک شکن بارودی سرنگوں میں استمال ہوتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ یہ بارود شدت پسندوں کو افغانستان سے ہاتھ لگا ہو، انہوں نے خریدا ہو یا بھارت یا افغانستان نے دیا ہو
لیفٹیننٹ جنرل(ر) طلعت مسعود
ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا القائدہ ، تحریک طالبان یا اس حملے کی دعویدار فدائینِ اسلام نامی غیر معروف تنظیم کا اسلام آباد اور اس کی گرد نواح میں ایسا مستقل اڈہ ہے جہاں انہوں نے اتنی بڑی مقدار میں بارود اکٹھا کیا اور بڑا ٹرک حاصل کر کے کامیاب حملہ کر دیا؟ اگر ایسا ہے تو یہ سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کی کوتاہی کی نشاندہی بھی۔

اگر ایک لمحے کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ سانحہ فدائینِ اسلام نامی شدت پسندوں کے گروہ کا شاخسانہ ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں انتہائی فوجی نوعیت کا یہ گولہ بارود کہاں سے ہاتھ لگا؟ شدت پسندوں نے افغانستان سے حاصل کیا، امریکی کیمپوں پر حملوں کے دوران انہیں ہاتھ لگا یا پھر کسی پاکستانی فوجی فیکٹری سے یہ بارود چوری ہوا؟

اس بارے میں جب ایک دفاعی مبصر اور سابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ استمال شدہ مارٹر اور آرٹلری شیل تو کباڑیوں سے بھی مل جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حملہ آوروں نے سپلنٹر کے طور پر وہ استعمال کیے ہوں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ آر ڈی ایکس بارود اور المونیم پاؤڈر فوجی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق آر ڈی ایکس ٹینک شکن بارودی سرنگوں میں استمال ہوتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ یہ بارود شدت پسندوں کو افغانستان سے ہاتھ لگا ہو، انہوں نے خریدا ہو یا بھارت یا افغانستان نے دیا ہو۔

جب ان سے پوچھا کہ فوجی نوعیت کا بارود استعمال ہونے کا بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایسے شواہد ملے ہوں کہ اس میں بھارت یا افغانستان ملوث ہیں؟

لیکن بعض دیگر ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات کم از کم پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر شائع ہوتی اور اس کا چرچہ بھی ہوتا۔

مشیر داخلہ نے میریئٹ پر حملے کی جانچ میں امریکہ سمیت کسی بھی بیرونی تعاون کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سیکورٹی ایجنسیوں کے مکمل اہل ہونے اور ان سے ہی تفتیش کرانے کا اعلان بھی کیا۔

ان کا یہ بیان کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے کیونکہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے معاملے میں یہی مشیر داخلہ اقرار کرچکے ہیں کہ پاکستان میں تفتیش کی جدید سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور تاحال اقوام متحدہ سے اس کی تفتیش پر زور دے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
’ملکی قیادت بال بال بچ گئی‘
22 September, 2008 | پاکستان
میریٹ: سکیورٹی ناکام رہی: فضل
23 September, 2008 | پاکستان
مشیر داخلہ یا ’مشیرِ ابہام‘
24 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد