دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان |  |
| | طالبان رہنما منگل باغ خیبر ایجینسی میں ایک ایف ایم سٹیشن پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے۔ |
امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جب حالت خراب ہونا شروع ہوئے تو حکومت ِ پاکستان نے میڈیا کے ذریعے اپنے پیغامات پہنچنے کے لیے مئی دو ہزار چار میں چار مقامات پر ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کئے جن میں شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک؛میرانشاہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا اور خیبر ایجنسی شامل ہیں۔ موجودہ دور میں میڈیا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ آج کل طاقت کا زیادہ اظہار میڈیا پر ہی نظر آتا ہے اور میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پیغام رسانی کی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں اپنی ساکھ بنانے اور لوگوں تک رسائی کے لیے ان ریڈیو سٹیشن کو قائم کیے۔ابتداء میں ان ریڈیو سٹیشن سے میوزیکل پروگرام نشر ہوتے تھے بعد میں طالبان کی دھمکی اور وانا ریڈیو سٹیشن پر حملوں کے بعد وہاں سے میوزیکل پروگرام بند کرکے صرف مذیبی پروگرام نشر کیے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق مذہبی پروگراموں میں تلاوت؛حمد نعت؛اور مذہبی تقاریر شامل ہیں۔وانا ریڈیو سٹیشن کو ابتداء میں علاقے کے لوگ ذوق شوق سے سنتے تھے لیکن بعد میں میوزک کی بندش اور علاقے سے متصل افغان علاقہ شکین سے ایف ایم سٹیشن کی نشریات کے صاف سنائی دینے کے سبب لوگ وہاں کے نشریات زیادہ دلچسپی سے سن رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان کے علاقہ تنائی کے رہائشی اسحاق خان نے بی بی سی کوبتایا کہ وہ افغانستان کے علاقے شکین کی ریڈیو سنتے ہیں۔ان کے مطابق وانا ریڈیو سٹیشن میں میوزیکل پروگرام نشت نہیں کئے جاتے اور صرف تبصروں پر مبنی پروگراموں میں ان کی دلچسپی نہیں ہے۔ وزیرستان کے ایک اور رہائشی احسان اللہ نے بتایا کہ وہ وانا ریڈیو سٹیشن سنتے ہیں لیکن اس میں گانے بجانے نہیں اور اس علاقے سے تعلق رکھنےوالے ایک اور نے نام بتانے سے گریز کرتے ہوئے بتایا کہ وانا ریڈیو سٹیشن ابتداء میں دلچسپ پروگرام نشر کرتے تھے لیکن جب سے طالبان کا سسٹم آیا تو وانا ریڈیو سٹیشن بھی طالبان کے زیر اثر آچکاہے اور اب اس میں گانے بجانے کی بجائے طالبان کے نغمے نشر کئے جاتے ہیں۔ وانا ریڈیو سٹیشن کے ایک اہلکار ظفر خان کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی وانا ریڈیو سٹیشن کو دلچسپی سے سنتے ہیں چونکہ حمد نعت بھی لوگ پسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں کی خواہش اور پسند کے مطابق یہاں پر مختلف معلوماتی پروگرام نشر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گانے بجانے کی جگہ انہوں نے زراعت، صحت اور تعلیمی پروگرام شروع کئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے یہ ریڈیو سٹیشن لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا رہے ہیں اور ان کی نشریات کو سنا جاتا ہے۔تاہم ان سٹیشنوں کو قائم کرنے سے پہلے چونکہ کوئی سروے نہیں کیاگیا اور نہ ہی لوگوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھا گیا اس لیے سٹیشن قائم ہونے اور آن ائر جانے کے باوجود ان کا زیادہ نوٹس نہیں لیا گیا۔ |