افغان ٹیکس اور طالبان کے ظہور سے کاروبار مندہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ابتدائی چند سالوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں تاریخی اضافہ ہوا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق دو ہزار پانچ چھ میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات ایک اعشاریہ ایک بلین ڈالر تک پہنچ گئی تھی جبکہ اس دوران افغانستان سے چار اعشاریہ سات ملین ڈالر کی اشیاء درآمد کی گئی تھیں۔ تاہم پاکستانی تاجر پاکستانی برآمدات کا حجم ایک اعشاریہ پانچ بلین ڈالر بتاتے تھے۔ سرحد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر اور گزشتہ دو دھائیوں سے زائد عرصے سے پاک افغان تجارت سے وابستہ سرور مومند کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت میں اضافہ اور پاکستانی میں طالبان کے ظہور نے تجارتی راستوں کو غیر محفوظ بنادیا ہے جسکی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی تجارت میں سال بہ سال کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ان کے بقول دو ہزار چھ سات میں پاکستانی کی درآمدات گھٹ کر سات سو پچاس ملین ڈالر اور دو ہزار سات آٹھ جولائی کے مہینے تک چھ سو دس ملین ڈالر تک آپہنچی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحد کے آر پار بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کے علاوہ پاکستانی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی اشیاء پر لگائے جانے والے ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہے۔
ان کے مطابق’ پاکستان سے افغانستان کے لیے تعمیراتی سامان سیمنٹ، لوہے کے علاوہ خوردونوش کی اشیاء لیجائی جاتی ہیں مگر افغان حکومت نے پاکستانی سامان پر دس سے پندرہ فیصد تک ٹیکس لگا یا ہے جس سے افغان مارکیٹ میں پاکستان کا نفوذ کم جبکہ دیگر پڑوسی ملکوں ایران اور بھارت کا زیادہ ہوگیا ہے۔‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرکاری طور پر ہونے والی زیادہ تر تجارت طورخم اور چمن بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے مگر پاکستان کے سات قبائلی ایجنسیوں کے لوگ سرحد پار افغانوں کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر تجارت کرنے کے لیے روایتی راستے استعمال کرتے ہیں۔ پاک افغان تجارت سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں بالخصوص پاکستان میں مبینہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں نے ان کی تجارتی سرگرمیوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے بقول اس وقت سینکڑوں ٹرانسپورٹر پاکستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فورسز کو روزمرہ ضروریات کی اشیاء اور تیل فراہم کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں مگر تجارتی راستوں پر مبینہ شدت پسندوں کی کاروائیوں نے ان تجارتی راستوں کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔ قبائلی علاقوں کے ٹرانسپورٹ یونین کے صدر اختر نواز کا الزام ہے کہ خیبر ایجنسی میں متعدد تنظیموں کی سرگرمیوں نے ان کی تجارت پر منفی اثرات ڈالا ہے۔ ان کے بقول’ ہمارا کاروبار اس لیے روز بروز خراب ہورہا ہے کیونکہ مبینہ شدت پسند تنظیمیں ہم سے ٹیکس وصول کرتے ہیں۔ ایک ٹرک پر ہمیں دس ہزار روپے دینے پڑتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہوں نے ٹیکس دینے سے انکار کردیا تو مبینہ شدت پسند تنظیمیں ان کے ٹرکوں کو یہ کہتے ہوئے نذرِ آتش کرتے ہیں کہ ’ آپ لوگ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان پہنچا کر ایک طریقے سےیہودیوں کی مدد کررہےہیں۔‘ اگرچہ اختر نواز نے کسی مخصوص تنظیم یا گروپ کا نام نہیں لیا البتہ آج تک کسی بھی تنظیم نے باقاعدہ طور پر ان الزامات کی تردید بھی نہیں کی ہے۔ آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے رہنماء شاکر آفریدی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے جنگی سازمان، روزمرہ استعمال کی اشیاء اورتیل کی ترسیل کے لیے چار سو کے قریب کنٹینر اور آئل ٹینکرروزانہ افغانستان جاتے ہیں تاہم بقول ان کے راستے میں سکیورٹی کی درپیش صورتحال نے انہیں سخت مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ ان کے مطابق’ کراچی سے طورخم کے راستے تیل افغانستان لیجاتے وقت راستے میں ہی نامعلوم مسلح افراد حملہ کرکے ڈرائیور کو ٹینکر سمیت اغواء کرلیتا ہے۔ہماری اب تک درجنوں ٹینکرز جلائے گئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ان واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہاہے مگر حکومت کی جانب سے ہمیں کسی قسم کی کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی ہے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||