سوات: فضائی حملے میں تیس ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے طالبان کے ایک اہم گڑھ کو پہلی مرتبہ جیٹ طیاروں سے نشانہ بنایا ہے جس میں تیس سے زائد طالبان ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ طالبان نے اس حملے میں اپنے ایک اہم کمانڈ ر اور اس کی قید میں موجود ایک مقامی شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی شام ساڑھے پانچ بجے جیٹ طیاروں نے تحصیل مٹہ میں واقع گٹ پیوچار میں قائم طالبان کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے بقول اس حملے میں تیس طالبان طالبان ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ فوجی ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو اہم طالبان کمانڈر مفتی سعید اور کمانڈر شہنشاہ بھی شامل ہیں۔ طالبان کے ترجمان مسلم خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس واقعہ میں اپنے ایک کمانڈر مفتی سعید اور ایک اور مقامی شخص عبدالعزیز جو ان کی تحویل میں تھا، کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ان کے بقول حملے میں ایک چوکیدار زخمی ہوا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال طالبان کے خلاف ’ راہِ حق‘ کے نام سےشروع کی جانے والی فوجی کارروائی کے دوران طالبان جنگجو اپنے سربراہ مولانا فضل اللہ کے ہمراہ فرار ہوکر تحصیل مٹہ کے دشوار گزار وادی گٹ پیوچار منتقل ہوگئے تھے جہاں پر انہوں نے اپنا مرکز قائم کرکے سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوج آپریشن کے دوسرے مرحلے میں جیٹ طیاروں کا استعمال کر کے طالبان کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے کو نشانہ بنایا ہے جس سے مبصرین کےبقول آپریشن میں شدت لائے جانے کا اشارہ مل رہا ہے۔ | اسی بارے میں ’سوات میں 23 شدت پسند ہلاک‘28 August, 2008 | پاکستان سوات: تشدد میں درجنوں ہلاکتیں23 August, 2008 | پاکستان سوات: طالبان کا حملہ، آٹھ ہلاک25 August, 2008 | پاکستان سوات: اے این پی رہنما کا گھر تباہ26 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||