BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 August, 2008, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کُرم:جھڑپیں جاری، مزید آٹھ ہلاک

کرم ایجنسی
حالیہ فسادات میں اب تک ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں
قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور تشدد کے تازہ واقعات میں مزید آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں اورگزشتہ ایک ہفتے سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

کرم ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کی رات لوئر کرم کے علاقوں میں فریقین نے ایک بار پھر ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے۔

عینی شاہدین کے مطابق لوئر اور آپر کرم کے علاقوں صدہ، بالش خیل، خوارکلی، معروف خیل، مخزئی، چار دیوار، جلیمہ ، پاڑہ چمکنی ، کڑمان اور پیواڑ میں ساری رات جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیار استعمال کیے۔ ان حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑائی کا دائرہ اب تیزی سے دیگر تک پھیل رہے ہے جس سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ صدہ کے ایک قبائلی ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل لڑائی جاری ہے جس میں دونوں طرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے لیکن کسی حکومتی اہلکار نے تاحال لڑائی روکنے کے سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’بظاہر ایسا دکھائی دتیاہے کہ جیسے حکومت خود اس لڑائی کو پھیلانے میں ملوث ہوں کیونکہ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے، گھر جلائے جا رہے ہیں، لوگ مر رہے ہیں لیکن حکومت بدستور خاموش ہے‘۔

ادھر چودہ اگست کے مناسبت سے لوئر کرم اور پارہ چنار میں لوگوں نے ملک کے باسٹھویں جشن آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا اور گھروں پر سیاہ پرچم لہرائے۔ پارہ چنار میں تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر سماجی تنظیموں کا ایک اجتماع بھی منعقد ہوا جس میں کرم ایجنسی میں جاری فسادات پر حکومت کی طرف سے خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کرم ایجنسی گزشتہ دو سالوں سے خونریز فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں ہے جس میں اب تک سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور مقامی انتظامیہ امن قائم کرنے میں ہر محاذ پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

اسی بارے میں
کرم: یرغمالی رہا، کرفیو جاری
11 December, 2007 | پاکستان
کرم ایجنسی:12 ہلاک37 زخمی
19 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد