لائن آف کنٹرول پر خوف کے سایے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے حالیہ واقعات کے باعث سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ لائن آف کنڑول پر امن برقرار رہے۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنڑول پر کوئی ساڑھے چار برس سے زیادہ عرصے تک کم و بیش سکون رہا، لیکن اب ایک بار پھر لائن آف کنڑول پر گولیوں اور مارٹر گولوں کی گن گرج سنائی دے رہی ہے جس کی وجہ سے لائن آف کنڑول کے قریبی علاقوں میں بسنے والے لوگ خوفزدہ ہیں۔ مظفرآباد کے شمال مشرق میں واقع وادی نیلم کے لالہ گاؤں کے رہائشی خورشید رانا ایک بار پھر اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگیوں کے لئے دعا گو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ لائن آف کنڑول پر فائرنگ کے واقعات کے بعد انہوں نے خالی کیے گئے بنکروں کی دوبارہ صفائی شروع کی کیوں کہ ان کے کہنے مطابق اگر کشیدگی بڑھ گئی تو وہ ان بنکروں میں پناہ لے سکیں۔‘ خورشید رانا کی بیٹی دس سال قبل بھارتی فوج کی مبینہ گولہ باری میں ہلاک ہوئی تھی۔ لالہ گاؤں کے چند سو گز کے فاصلے پر دریائے نیلم کے دوسری جانب پہاڑی پر بھارتی چوکی ہے۔
سن دو ہزار تین میں فائر بندی سے پہلے لائن آف کنڑول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری معمول کی بات تھی جس کے باعث دونوں جانب سینکڑوں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے یا پھر عمر بھر کے لئے معذور ہوئے۔ سرحدی علاقوں کے لوگ ماضی کی تلخ یادوں سے آج تک پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ وادی نیلم کے لالہ گاؤں کے ایک اور رہائشی امیر اللہ کا کہنا ہے کہ ’جب فائرنگ ہوتی تو ہم پتھر کی آڑ میں چھپ جاتے یا بنکروں میں پناہ لیتے یا پھر زمین پر لیٹ جاتے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے گاؤں کے تیس لوگ بھارتی افواج کی گولہ باری کے باعث ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد زخمی ہوئے، ہماری املاک کو نقصان پہنچا، ہمارے گھر تباہ ہوئے یا ان کو نقصان پہنچا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ہم وقت پر میت بھی نہیں دفنا سکتے تھے، تین تین دن بھوکے پیاسے رہتے اور محنت مزدوری بھی نہیں کرسکتے تھے اور روزگار تباہ ہوکر رہ گیا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ’ہمارے بچے بنکروں میں جوان ہوئے اور ان پڑھ رہ گئے۔‘ لیکن لائن آف کنڑول پر فائر بندی کے باعث سرحدی علاقوں کے لوگوں کو راحت ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان لوگوں کا خیال کرتے ہوئے لائن آف کنڑول پر امن قائم رکھیں۔ سن انیس سو اٹھاسی میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح جدوجہد کے آغاز کے ساتھ ہی لائن آف کنڑول پر بھی ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری شروع ہوئی۔ برسوں تک جاری رہنے والے گولہ باری کے بعد سن دو ہزار تین میں لائن آف کنڑول پر فائر بندی ہوئی اور سرحدی علاقوں میں بسنے والوں نے سکھ کا سانس لیا اور ان کی زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آگئی۔ لیکن حالیہ مہینوں میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے متعدد واقعات پیش آئے سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو امن کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے وہ دعا کرتے ہیں کہ لائن آف کنڑول پر امن و سکون قائم رہے۔ لالہ گاؤں سے کچھ ہی فاصلے پر وادی نیلم کے قصبے اٹھ مقام میں ثمرینہ بی بی کا کہنا ہے کہ ہمارے والد گولہ باری کی زد میں ہلاک آکر ہلاک ہوئے ہم یتیم ہوگئے، ہمیں مصیبتیں اور مشکلات اٹھانا پڑیں۔ ثمرینہ بی بی کے والد سن انیس سو ستانوے میں بھارتی فوج کی گولہ باری کے باعث ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے والد زندہ ہوتے تو ہم مشکلات سے دوچار نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے اب کوئی اور یتیم ہو اور کسی کو ہماری جیسی سختیاں اٹھانا پڑیں۔ ہماری یہی دعا ہے کہ امن رہے اور دوبارہ گولہ باری شروع نہ ہو’۔ ہندوستان اکثر پاکستان پر عسکریت پسندوں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ مسلح کرنے اور لائن آف کنڑول کے دوسری جانب بیجھنے کا الزام لگاتا رہا لیکن پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ وہ کشمیریوں کی صرف اخلاقی، سفارتی اور سیاسی مدد کرتا ہے۔ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے سن دو ہزار تین میں امن کا عمل شروع ہوا لیکن اس دوران اب تک ان کے درمیان اہم متازعہ مسائل پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ | اسی بارے میں فائرنگ: 4 پاکستانی فوجی ہلاک19 June, 2008 | پاکستان ایل او سی پر فائرنگ کا تبادلہ26 July, 2008 | پاکستان ’جنگ بندی کا احترام کریں‘29 July, 2008 | پاکستان ’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||