BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 July, 2008, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت میں تشدد، نیب اہلکار گرفتار

سپریم کورٹ
گرفتار ہونے والوں میں فوج کا ایک ریٹائرڈ کرنل بھی شامل ہے
پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے عدالت کے احاطے میں ایک شخص پر تشدد کرنے پر نیب کے دو افسران کو جیل بھجوا دیا ہے۔ ان افسران میں فوج کا ایک ریٹائرڈ کرنل بھی شامل ہے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے اس ضمن میں نیب کے چیئرمین نوید احسن اور پراسیکیوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک کو عدالت میں طلب کر لیا اور اُن سے اس بارے میں تفصیلات معلوم کیں۔

عدالت نے نیب کےچیئرمین کو حکم دیا کہ وہ ان افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں اور عدالت کو اس بارے میں آگاہ کریں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت کے احاطے میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے بھی کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کے متعلق تصاویر اور بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کروائیں۔

نیب کے جن دو افسران کو توہین عدالت کے تحت جیل بھیجا گیا ہے اُن میں مانیٹرنگ افسر کرنل ریٹائرڈ محمد طارق اور تفتیشی افسر محمد اسلم شامل ہیں۔

اٹارنی جنرل کے مطابق پنجاب بینک سے قرضہ حاصل کرنے والوں کا کیس لاہور ہائی کورٹ میں چل رہا تھا کہ اس بینک کہ ایک نادہندہ حارث سٹیل ملز کے ایک ملازم محمد عرفان بھی اپنی داد رسی کے لیے سپریم کورٹ میں آئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس سٹیل ملز کے ذمہ اربوں روپے واجب الاادا ہیں۔

محمد عرفان حارث سٹیل ملز میں ایک اعلی عہدے پر فائض ہیں۔ اطلاعات کے مطابق محمد عرفان سپریم کورٹ کی کینٹین میں چائے پی رہے تھے کہ نیب کے مذکورہ افسران آئے اور اُنہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے باہر لے آئے اور بعد ازاں گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔

واضح رہے کہ اس موقع پر پولیس اہلکار بھی عدالت کے باہر موجود تھے اور کسی نے بھی محمد عرفان کو چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے احاطے میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جب انہوں نے نیب اہلکاروں کو تشدد کرنے سے روکا تو اُنہیں بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

سپریم کورٹ میں موجود سینیئر وکلاء نے جن میں سید شریف الدین پیرزادہ، وسیم سجاد اور ڈاکٹر بابر اعوان شامل ہیں، چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو اس واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا جس پر چیف جسٹس نے نیب کے چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت میں طلب کرنے کے علاوہ نیب کے ان افسران کو بھی عدالت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے اس واقعہ کو توہین عدالت قرار دیتے ہوئے نیب کے دو افسران کو جیل بھجوا دیا جبکہ محمد عرفان کو ان کی حراست سے رہا کرایا۔

اس سے قبل عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران نیب کو ہدایات جاری کی تھیں کہ چھ اگست تک درخواست گزاروں کو ہراساں نہ کیا جائے۔

اسی بارے میں
کل کے مجرم، آج کے وزیر
31 March, 2008 | پاکستان
جہانگیر درخواست نیب کے پاس
29 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد